زندہ درخت — Page 331
زنده درخت محمدی تھا اس میں حنفیوں کے غلط عقائد کا بیان تھا۔اس ملاقات کے بعد میں عاشور کے روز گورداسپور گیا ایک مولوی سے آریہ بحث کر رہے تھے۔مجمع دیکھ کر میں آگے بڑھا دیکھا کہ مولوی لا جواب ہو رہا ہے مجھے دیکھا تو فرار کا بہانہ مل گیا۔آریہ اُسے پکڑ پکڑ کر کھڑا کرتے مگر وہ میری طرف اشارہ کر کے یہ کہہ کر بھاگ گیا کہ اب مولوی صاحب آگئے ہیں مجھے گھر میں کچھ کام ہے۔میری اس سے پہلے آریوں سے کبھی بات نہیں ہوئی تھی۔مذہب عقیدے کا علم نہیں تھا میں نے کہا آپ اپنا مذہب خود بیان کریں۔انہوں نے دین حق کو بہت بُرا بھلا کہا میں مغلوب ہو گیا۔اللہ تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ مولا اسلام کی تائید میں دلائل سکھا دے۔میرے دوستوں نے مجھے بتایا کہ قادیاں والے مرزا صاحب نے ایک کتاب تیار کی ہے جس میں دین حق اور قرآن کی ایسی صفات بیان فرمائی ہیں کہ مخالف منہ کے بل گر جائیں۔پس شائق دے شوق نے پکڑی ترت مہار جو سُنیا جا دیکھیا چمکار ہی چمکار کتاب براہین احمدی جلداں بنی چار تے پنجم دے واسطے ہو رہا اقرار چوتھی جلد لیا کے ڈٹھی پر اسرار عیسائیاں تے آریاں جس وچ دار مدار کتاب کیا تھی اس طرح لگا آسمان کی گردش بدل گئی ہے بہار آ گئی ہے۔میں نے اپنے یار دوستوں سے کہا گورداسپور چلو اور رونق بازار دیکھو۔دسہرہ کے تہوار میں آریوں سے بات ہوئی دلائل میرے پاس تھے جلدی لاچار ہو کر رخصت ہوئے جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی تائید میرے شریک حال ہوئی اس کا کچھ احوال لکھتا ہوں : جس دی برکت ہوگئی یہ نصرت ابرار لازم ہے سج اُس دا حال کراں اظہار 331