زندہ درخت — Page 330
زنده درخت صبح مجھے حضرت نے پیار سے جگایا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔لائین کی روشنی میں تہجد پھر نماز فجر ادا کی۔مجھے نہیں علم حضور رات کو سوئے یا نہیں۔میرا عقیدہ حنفی تھا مجھے وہابیوں کے بہت سے مسائل یاد تھے ان میں بہت جگہ گہرے اختلاف تھے میں نے حضور سے دریافت کیا سب ” قال رسول کریم سے بات کرتے ہیں اور آپس میں لڑتے ہیں ایک دوسرے کو کافر اور مردود کہتے ہیں۔پیارے مسیح پر میری جان قربان ہو۔میری بات سن کر فرمایا: جب دو فریق آپس میں بات کریں تو پہلے یہ دیکھیں کہ مخالف کس بات پر دار و مدار رکھتا ہے۔کون قال رسول پر رہتا ہے۔کون قال رسول سے گریز اور فرار اختیار کرتا ہے۔مجھے کامل رہنما سے یہ عجیب مفید گر ہاتھ لگا اور میرا سینہ علم سے بھر گیا۔حضرت پاک زبان تھوں کیتا اے اظہار دفتر قال رسول دا ایہہ ہے کل عیان پڑھ کے دیکھو فیصلہ حکمت رب رحمان قال رسول جو نبی نے کہا نال زبان لیکن دو فریق دے سُن پہلے اظہار اوپر کیڑی بات دے رکھن دار و مدار کیہڑا قال رسول تے کرے قرار اقرار کیبڑا قال رسول تھوں کرے گریز فرار بس اے مینوں مل گیا ست گر تھیں ست گر ایسے گر تھوں ہو گیا سینہ علموں پر اس سے میں نے بہت فائدہ اُٹھایا۔جب بھی بحث مباحثہ ہوا اسی سے حل کیا حضرت اقدس نے رخصت کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی کتاب بھی عنایت فرمائی جس کا نام ستارہ 330