زندہ درخت

by Other Authors

Page 270 of 368

زندہ درخت — Page 270

زنده درخت طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے خدمت دین کا جذ بہ مجھے میری ماں نے اپنے دودھ کے ساتھ پلایا تھا جو میرے رگ و پے میں جاری ہے۔اماں جی کی زندگی کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔قادیان کی رہائش کے زمانہ میں خدا تعالی کے فضل سے ہر طرح فراخی تھی۔ہر ضرورت اور جذبے کا پوری طرح خیال رکھنے والا شوہر موجود تھا۔ایسی فراخی کے زمانہ میں دینی احکام کی کماحقہ تعمیل کرتیں۔پردہ اور حیا اگر ایک احمدی عورت کا زیور اور خوبصورتی ہے۔تو آپ میں یہ بدرجہ کمال موجود تھا۔حقوق العباد کی ادائیگی میں کمال احتیاط و التزام ہوتا۔قادیان سلسلہ احمدیہ کا مرکز تو تھا ہی اماں جی کے حسن سلوک کی وجہ سے ہمارے سب رشتہ داروں کا مرکز ہمارا گھر بنا رہتا تھا غریب رشتہ داروں کی مدد کر کے خوش ہوتیں۔ابا جان کی طبیعت کو اس طرح سمجھتی تھیں کہ بسا اوقات بات کے لئے بات کہنے یا اشارہ کرنے کی بھی نوبت نہ آتی اور ایک دوسرے کے منشاء کے مطابق عمل ہو جاتا۔خدا تعالی کے فضل سے ہم نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جس میں میاں بیوی کی باہم ناراضگی، ناخوشی اور جھوٹ وغیرہ کا بالکل کوئی دخل نہیں تھا۔قادیان کے زمانہ کی صرف ایک بات اور تحریر کرتا ہوں۔ابا جان کو اپنے کاروبار کے سلسلہ میں بٹالہ، امرتسر اکثر جانا پڑتا تھا تحر یک جدید کے اجراء سے پہلے کا زمانہ تھا جب کبھی موقع ملتا سینما بھی چلے جاتے اور اس طرح واپسی میں دیر ہوتی مگر کوئی حل نظر نہیں آتا تھا۔ایک جمعہ کے دن یہ پروگرام بنا کہ جمعہ سے واپسی کے بعد امرتسر جانا ہے اور وہاں سے شوق سینما بینی پورا کر کے واپسی ہوگی۔اماں جی نے کہا کہ خدا کرے حضور آج کے خطبہ میں سینما جانے پر پابندی لگا دیں۔خدا کی قدرت حضور کے خطبہ کا موضوع سادہ زندگی تھا اور سینما بینی کی ناپسندیدگی کا اظہار تھا۔اماں جی تو خوش خوش واپس آئیں اور ابا جان کی نظر میں اماں جی کا مقام اور زیادہ بڑھ گیا اور اس کے بعد اس لغویت سے مکمل اجتناب اختیار کیا۔اماں جی کی زندگی کا دوسرا دور پاکستان کے قیام کے بعد شروع ہوا۔تقسیم ملک کے 270