زندہ درخت — Page 271
زنده درخت وقت تو غالب خیال امید اور خواہش یہی تھی کہ جماعتی مسلک و کوشش کے مطابق قادیان پاکستان میں شامل ہو۔ابتدائی اعلان تو یہی ہوا مگر بعد میں کسی وجہ سے قادیان ہندوستان میں شامل ہو گیا اور ہمیں بادل نخواستہ قادیان چھوڑنا پڑا۔ابا جان کو اللہ تعالیٰ نے درویشی کی سعادت سے نوازا۔ہم سات بہن بھائی اماں جی کے ساتھ اس حال میں پاکستان آئے کہ نہ تو ہمارا نھیال ادھر تھا اور نہ ہی ددھیال۔ظاہری طور پر کوئی ذریعہ اور سہارا نہیں تھا۔یہ ایک لمبی اور پر درد داستان ہے جسے ایک طرف چھوڑتے ہوئے صرف یہی کہنے پر اکتفا کروں گا کہ امی جان کی عمر اس وقت صرف 35 سال تھی۔سات بچے ہمراہ تھے، آٹھواں بچہ ہمارا چھوٹا بھائی عبدالسلام طاہر پاکستان آنے کے بعد پیدا ہوا۔یہ صورتحال اماں جی کے لئے اتنا بڑا چیلنج تھا کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا، کوئی صاحب دل ہی اس کا احساس کر سکتا ہے۔ان حالات میں جب بڑے بھائی جان عبدالمجید نیاز نے پڑھائی چھوڑ کر کوئی کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اماں جی نے بلا تامل اس تجویز کو سختی سے رڈ کر دیا۔تو کل اور عزم کی یہ عجیب مثال ہے، بغیر کسی معین و معقول آمدنی کے آپ نے ہر حال میں پڑھائی جاری رکھنے کو ضروری سمجھا ، جماعت کی طرف سے کچھ عرصہ پندرہ روپے ماہوار کی مددضرور لی مگر وہ بھی بوجہ مالی تنگی جاری نہ رہ سکی۔مگر تینوں لڑکوں کو ہی نہیں پانچوں لڑکیوں کو بھی پڑھائی کی طرف راغب رکھا۔اس جذبہ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت ملی۔ہم سب بھائی بہنوں کو تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ اپنے اپنے رنگ میں سلسلہ کی خدمت کی توفیق بھی ملی۔اماں جی کی قبولیت دعا کے بے شمار واقعات ہیں، بطور مثال عرض ہے کہ ایک دفعہ ہماری ایک بہن نے امتحان کے بعد بتایا کہ میرا ایک پرچہ توقع کے مطابق نہیں ہوا اور اس کے متعلق فکر ہو رہا ہے اماں جی جو معمولاً ہر بچے کے لئے دعا کرتی تھیں زیادہ توجہ سے دعا کرنے لگیں خواب میں انہیں نمبر بتائے گئے مگر انگریزی ہندسوں میں لکھے ہونے کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکیں اور اپنی سجدہ گاہ کے قریب زمین پر انگلی سے ایک ہندسہ کا نشان بنالیا صبح اٹھ کر بتایا کہ شروع کا ہندسہ 3 اس طرح کا تھا، میری بہن کے لئے تو یہ بڑی خوشخبری تھی کہ 271