زندہ درخت

by Other Authors

Page 248 of 368

زندہ درخت — Page 248

زنده درخت وہی کمرہ تھا ابا جان کہتے حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور تمہاری امی کی روح مجھے یہاں لے آئی ہے۔اسی کمرے میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد ( خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) آپ سے ملنے تشریف لائے اور محبت بھرے انداز میں ایک درویش قادیان کو پیار کیا۔چچا جان صالح محمد صاحب اور چاجان عبد اللہ صاحب بھی دیکھنے آئے۔بھائی بہنوں کے سب موجود بچوں نے خدمت کی اور دعائیں لیں۔بھابی منصورہ کو بھی خدمت کا موقع ملا۔ابا جان کی عام صحت تو ٹھیک تھی مگر کمزوری بہت بڑھ گئی تھی۔چھ فروری کی رات ہم ابا جان کے قریب بیٹھے تھے بجلی کی رو بہت کم تھی اچانک روشنی تیز ہوئی تو میرے منہ سے نکلا شکر ہے ابا جی نے پوچھا کس بات کا شکر ہے؟ میں نے کہا روشنی بہتر ہو گئی ہے فرمایا مجھے تو سب نیلا دکھائی دے رہا ہے۔آپ اچھی آواز میں اردو میں بات کر رہے تھے۔مجھے کئی بار پکارا طیفو، میں نے آمدہ خطرے سے دُکھی ہو کر کئی بار کہا ابا جی آپ کی طیفو آپ کے سامنے ہے پھر آہستہ آہستہ سانس ہلکا ہونے لگا اور پھر یہ ڈوری بھی ٹوٹ گئی۔ہمارے ابا جی ہم سے ہمیشہ کے لئے رُخصت ہو گئے اور اُس خالق حقیقی سے جاملے جو سب سے پیارا ٹلانے والا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔جیسے آپ کی زندگی میں ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بے شمار نظارے نظر آتے ہیں اسی طرح اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش کی طرح نازل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔نہ جانے کب سے بچھڑے ہوئے عزیز جن کی راہوں میں کئی قسم کی مجبوریاں حائل تھیں، پاکستان آنے کی وجہ سے آپ سے مل سکے اور آپ کی آنکھیں اُن کو دیکھ کر ٹھنڈی ہو ئیں۔زندگی میں پہلی دفعہ حیدر آباد، اسلام آباد اور کراچی کا سفر کیا اور سلام، باری ، ناصر صاحب سے جا کر ملے۔چچا جان حمید صاحب بیٹے کی شادی کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔اس طرح عزیزوں سے ملنے کے غیر معمولی سامان ہوئے۔نہ جانے آپ نے کس درد سے دعائیں کی ہوں گی جو اس طرح پوری ہوئیں۔پھر خلفائے کرام سے جدائی کی تڑپ اس طرح پوری ہوئی کہ حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حاضر جنازہ 248