زندہ درخت — Page 199
زنده درخت سمیت شریک ہونے کو تیار ہو گیا۔مگر وقت آیا تو میں تڑپتا ہی رہ گیا پاکستان والے بازی لے گئے۔کئی دن متوحش خواہیں دیکھ کر دعا اور صدقہ زیادہ کر دیا تھا۔مگر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں معتکف حالت میں انتیسویں کی رات اچھا خواب دیکھا۔دیکھا کہ حد نظر تک خوبصورت پکے ہوئے نفیس آم ہیں ڈھیر مکانوں سے بھی اونچے ہیں۔ٹوکروں میں بھی ہیں ایک ٹوکری میرے سامنے بھی ہے اُس میں سے ایک لذیذ میٹھا رس سے بھر پور نرالا ہی چسکا ہے میں نے بھی کھایا۔مجھے خیال آتا ہے کہ ڈھیر اتنے بڑے ہیں نیچے والے خراب ہی نہ ہو جائیں۔سوچ رہا ہوں کہ ہر ایک کی ٹوپی سی بنادوں۔ایک پہلوان کی سی شکل والا آدمی مجھے کہتا ہے۔بھائی جی یہاں بیٹھیں ابھی ادھر سے ایک بے پناہ ہجوم گزرنے والا ہے۔آپ کو اس سے مالی فائدہ ہوگا اور تبلیغ کا شوق بھی پورا ہوگا۔یہ خواب ایک طرح اُسی روز پورا بھی ہو گیا ایک خلیل محمود صاحب جو نائیجیریا اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں بیوی اور چارلڑکوں کے ساتھ قادیان آئے۔تلاوت کرتے نماز پڑھتے روزہ رکھتے۔اعتکاف بیٹھے، درس سنتے ، عید پڑھی عجیب رنگ تھا۔ابدال تھے غوث تھے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور عمل میں شرف دے آمین۔ان کے سر پر بہت بھدی سی کالی ٹوپی تھی۔مجھے آج کل ٹوپیاں بنانے کا شوق چڑھا ہوا ہے۔سوچا کہ ان کے لئے ٹوپی بناؤں یا اسی کو صاف کر دوں، انگلش جانتا نہیں ہوں۔ایک مدراسی پادری جو مع فیملی احمدی ہو کر قادیان آئے ہیں۔اُن سے ترجمانی کروا کے خلیل محمود صاحب سے کہا کہ اپنی ٹوپی مجھے دے دیں میں نئی کر دوں گا۔وہ گھر آئے بہت دیر باتیں ہوئیں۔جب میں نے انہیں ٹوپی بنا سنوار صاف کر کے دی تو اس قدر خوش ہوئے کہ حد بیان سے باہر ہے۔پھر اپنے لڑکوں اور بیوی کے لئے خاص وضع کی ٹوپیاں سلوائیں۔میں نے 199