زندہ درخت — Page 198
زنده درخت قرآن کریم ترک کرنے والا ہوگا۔کیونکہ اس میں تو آئندہ کے لئے پیشگوئیاں ہیں وہ فیض خداوندی کے منکرین کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔اُن کی چھتیں اُن پر الٹا دیتا ہے۔زمین سے چمٹا کے رکھ دیتا۔منہ کے بل گرا دیتا۔پانی میں غرق کر دیتا۔نام و نشان مٹا کے رکھ دیتا۔اُن کا نام لینے والے نہ رہے۔دنیا ایک لاکھ چوبیس ہزار بار اس امر کا مشاہدہ کر چکی ہے۔جبکہ موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے نشان کے طور پر راستہ دیا۔سو آپ دیکھیں گے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی دریائے نیل پر کھڑے حضرت موسی علیہ السلام والا فقرہ دہرار ہے ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے وہاں لکھا ہے کہ آئندہ یہ واقعہ ہونے والا ہے کوئی خلیفہ ضرور دریائے نیل پر یا کسی دوسرے دریا کے کنارے یہ الفاظ دہرائے گا۔غالباً وہاں دس محرم بھی لکھا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور اپنی خاص پناہ میں رکھے۔اور اگر اپنی خاص منشاء اور تقدیر کے لئے آپ کو موقع دے تو سب سے آگے آپ ہوں۔خدا تعالیٰ کا فیض جیسے پہلے جاری تھا اب بھی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس روشنی کو اپنے فیض سے باقی چھوڑا اُس کو کوئی گزند نہ ہو۔میں نے بار ہا آپ کو قربان کیا۔ہم اپنی درویشی کی تعریف سنتے تھے مگر اب شرمندہ ہیں۔اے ہم صفیر بے گل کس کو دماغ نالہ مدت ہوئی ہماری منقار زیر پر ہے کاش کہ ہم کو بھی کسی اس راہ میں تڑپنے اور کسمپرسی سے بے گھر ہونے والے کسی مہمان کی جوتی سیدھی کر کے اجر پانا نصیب ہوتا۔میں اگر چہ کم حوصلہ اور بزدل تھا۔ہر تحریک میں خود کو دھکا دے کر آگے کیا۔دعوت الی اللہ کے میدان میں، جہاد کے میدان میں ، لڑائی کے موقع پر، مباہلہ میں آپ سب 198