زندہ درخت — Page 161
زنده درخت 26- زمان درویشی کے چند واقعات i- دیانت لوشن : درویشی کے دور میں ایک ساتھی چوہدری محمد طفیل صاحب کو آنکھوں میں تکلیف تھی ڈاکٹر صاحب نے جو ٹیوب لگانے کے لئے دی مہنگی تھی میں نے ایک سستا سانسخہ بتا یا کہ سفید پیاز کے پانی میں برابر کا شہد ملا کر صبح و شام دو دو قطرے ڈالیں۔آپ کو بہت فائدہ ہوا۔اس دوا کا نام دیانت لوشن رکھ لیا اور بہت لوگوں کو بتایا۔پھر ان کو اکسیر جگر کا نسخہ بھی بتایا۔نوشادر قلمی شوره، ریوند چینی، الائچی ، سفید باریک پیس کر دو دو رتی خوراک لے لیں۔انہیں بفضل خدا اس قدر فائدہ ہوا کہ اکثر لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ بھائی جی اتنے کام کے آدمی ہیں کہ فوت ہو جا ئیں تو مسالہ لگا کر محفوظ کر لینا چاہئے۔ii- غیب سے رزق کے سامان : درویشی کے زمانہ میں فقر و فاقہ اور سادگی سے گزارا ہوتا۔درویشوں کو جو وظیفہ ملتا تھا۔لینا گوارا نہ کیا البتہ ایک مدت دراز کے بعد لنگر خانہ سے کچھ عرصہ کھانا لیا مگر پھر چھوڑ کر خود پکانا شروع کر دیا۔ایک ٹین کا ڈبہ تھا اُس میں کچھ پکا لیتا۔میری بڑی بیٹی عزیزہ امتہ اللطیف قادیان آئی تو اس پرانے ڈبے کو اس طرح مانجھا کہ استعمال کے قابل نہ رہا یعنی سوراخ ہو گئے۔میں کبھی سوال کر کے کسی سے کوئی چیز نہ لیتا اُن دنوں پیسے بالکل ختم تھے۔بچی آئی تھی اور میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔میری عادت تھی کہ کہیں سے آمد ہوتی تو کتا ہیں اور جلد سازی کا سامان خرید لیتا۔اس آڑے وقت میں اللہ تعالیٰ نے غیب سے مدد فرمائی سامنے صحن میں کالی سی ڈھیری نظر آئی قریب جا کر دیکھا کہ تو دواڑھائی سیر کلونجی تھی غالباً کسی کے کام کی نہ ہوگی باہر پھینک دی میں نے اُٹھا کر صاف کی اور دکان پر جا کر فروخت کر دی۔161