ذکر حبیب

by Other Authors

Page 45 of 381

ذکر حبیب — Page 45

45 راقم کے دو خواب ۱۳ اگست ۱۸۹۸ء کے اخبار الحکم میں شائع ہوا تھا کہ کل گذشتہ سے منشی تاج الدین مع اہل بیت اور مفتی محمد صادق و منشی غلام حسین صاحب ڈنگوی ومیاں محمد حیات لاہور سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔صبح کی نماز کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک داڑھ کا حصہ جو بوسیدہ ہو گئی ہے، اُس کو میں نے منہ سے نکالا اور وہ بہت صاف تھا اور اُسے ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا کہ خواب میں دانت اگر ہاتھ سے گرایا جائے تو وہ منذر ہوتا ہے ، ورنہ مبشر۔زاں بعد محمد صادق نے اپنے دو خواب سنائے۔جن میں سے ایک میں نور کے کپڑوں کا ملنا اور دوسرے میں حضرت اقدس کے دیئے ہوئے مضمون کا خوشخط نقل کرنا تھا۔جس کی تعبیر حضرت اقدس نے کامیابی مقاصد فرمائی۔ہنرش نیز بگو قریباً ۱۸۹۸ء کا ذکر ہے جب مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان ابتدائی حالت میں تھا اور غالباً ہنوز پرائمری تک جماعتیں تھیں۔منجملہ مدرسین کے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور مفتی فضل الرحمن حکیم صاحب بھی تھے اور حضرت مولوی حکیم فضل دین صاحب مرحوم و مغفور مدرسہ کے مینجر تھے اور سکول کے انتظام کے واسطے ایک مختصر سی انجمن بنی ہوئی تھی جس کا ایک ممبر عاجز بھی تھا۔عاجز اس وقت ابھی دفتر اکو نٹنٹ جنرل پنجاب لاہور میں کلرک تھا اور وہاں سے قادیان آتا رہتا تھا اور انجمن کے اجلاسوں میں شامل ہوتا رہتا تھا۔ایک دفعہ بعض اراکین مدرسہ نے مجلس میں جبکہ عاجز بھی حاضر تھا ، شیخ یعقوب علی صاحب کی کچھ شکایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور میں کی۔حضور نے سُن کر فرمایا عیش ہمہ گفتی ہنرش نیز بگو۔پھر حضور نے خود شیخ صاحب موصوف کی کوئی خوبی بیان کی کہ اُن میں وہ عیب ہے تو یہ خوبی بھی ہے۔سفارش قبول حکیم مفتی فضل الرحمن صاحب جب مدرسہ تعلیم الاسلام میں مدرس تھے تو ایک دفعہ رخصت لے کر اپنے پرانے وطن بھیرہ تشریف لے گئے اور وہاں رخصت سے کچھ دن او پر لگا دیئے جس پر انجمن نے انہیں نوٹس دیا مگر نوٹس پر بھی وہ نہ آ سکے۔تب انجمن نے انہیں موقوف کر دیا۔جب وہ واپس آئے تو اُن کی ساس و پھوپھی ( زوجہ اول حضرت خلیفہ اول مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ جس کا نام فاطمہ بی بی تھا) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس گئیں اور