ذکر حبیب — Page 46
46 شکایت کی کہ انجمن نے میرے داماد کو ملازمت سے علیحدہ کر دیا ہے۔حضرت نے اُسی وقت انجمن کے سیکرٹری کو حکم لکھ کر مفتی فضل الرحمن صاحب کو اُن کی ملازمت پر بحال کر دیا۔مفتی فضل الرحمن صاحب عاجز راقم کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ان کے دادا اور میرے نانا سگے بھائی تھے اور اس کے علاوہ اور بھی کئی رشتہ داریاں آپس میں ہیں۔وہ میرے قریباً ہم عمر ہیں اور ہم دونوں چھوٹی عمر میں اکٹھے ہی کھیلتے اور ایک ہی مدرسہ میں تعلیم پاتے تھے۔مضامین لکھوانا ہنوز یہ عاجز لاہور میں ملازم تھا۔غالباً ۱۸۹۸ء کا یہ واقعہ ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خدام کو حکم دیا کہ ضرورت امام ومصلح کے عنوان پر سب لوگ الگ الگ مضمون لکھیں۔یہ تمام مضامین برادرم مکرم منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپورتھلہ نے جو اس وقت قادیان میں موجود تھے حضرت صاحب کو پڑھ کر سنائے۔اس حکم کی تعمیل پر عاجز نے بھی مضمون لکھا تھا جس کے متعلق منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ کو اطلاع کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو بہت پسند کیا ہے۔یہ تمام مضامین شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم کی تحویل میں رکھے گئے تھے۔کتاب امہات المومنين جب ایک عیسائی (احمد شاہ نام) نے اسلام کے خلاف ایک کتاب بنام امہات المومنین شائع کی تو مسلمانوں میں اس کے متعلق شور پڑا اور انجمن حمایت اسلام لاہور نے گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں ایک میموریل پیش کرنا چاہا کہ اس کتاب کو ضبط کیا جائے اور اس کی اشاعت کو بند کیا جائے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تجویز کی مخالفت کی اور فرمایا کہ گورنمنٹ کو لکھنے سے کیا فائدہ ، اس کتاب کا جواب شائع کرنا چاہیئے۔اس پر حمایت اسلام کے اراکین حضرت مسیح موعود علیہ السّلام پر بہت ناراض ہوئے اور حضور کی مخالفت میں اشتہار شائع کیا اور ہر طرح سے مخالفت کی۔مگر انجمن کا میموریل گورنمنٹ نے نامنظور کیا اور انہیں بہت شرمندگی اُٹھانی پڑی۔نصيين جلسه غالباً ۱۸۹۸ء میں حضرت صاحب نے ایک جلسہ چند ا حباب کو نصیبین بھیجنے کے واسطے کیا۔اس میں مرزا خدا بخش صاحب اور میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کو اس غرض کے واسطے نصیبین بھیجنے کی تجویز کی گئی کہ وہاں پہنچ کر اس امر کے متعلق تحقیقات کریں کہ مسیح ناصری جو بعض اپنے خوش