ذکر حبیب — Page 44
44 ہادی اور دینی بھائیوں اور بہنوں کی دُعاؤں سے زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں۔(۲) جہاں پر لگی محبت مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی فضل الہی صاحب موجود تھے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد مرزا ایوب بیگ و مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی آن پہنچے۔اس وقت میں نے ان صاحبوں کے آگے اپنا وعدہ سفر کے حالات نویسی کا برادرم یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے ساتھ جو تھا اس کا ذکر کیا۔جس کو سُن کر مفتی محمد صادق صاحب نے جہاں بہت خوشی کا اظہار کیا وہاں آب زر سے لکھنے کے قابل ایک امر معروف بھی بندہ کو کیا کہ جو ان حالات نویسی کی روح تھا۔آپ نے فرمایا کہ ان تمام تحریروں میں اخلاص کا خیال ضروری ہے۔کیونکہ انسان بہت سی تقریر میں کر سکتا ہے اور لکھ سکتا ہے مگر اس امر کی دُعا ضرور چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے قول و فعل کو ایک جیسا کر دے۔اللہ تعالیٰ ہمارے محسن مفتی صاحب کو جزائے خیر دے اور ان کے ارادوں میں ان کو کامیاب کرے۔گاڑی کے چلنے میں شاید ایک دو منٹ رہے ہوں گے کہ دوڑتے دوڑتے بھائی شیخ عبداللہ اور حکیم فضل الہی صاحب، بھائی معراج الدین صاحب اور شاید اور بھی کوئی صاحب ان کے ہمراہ ہوں گے مگر بندہ کو یاد نہیں آ پہنچے اور مصافحہ کر ہی رہے تھے کہ گاڑی روانہ ہوئی۔اس اسٹیشن کی ملاقات پر ہمارے محسن بھائی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک اور بھی ایسا کام کیا جو کہ دراصل قابلِ تقلید ہے۔آپ نے اس حدیث کے موافق کہ مُسافر کی دُعا مقبول بارگاہ عالی ہوتی ہے میری نوٹ بک پر اپنی لاہور کی جماعت کے ممبروں کے نام جس قدر ان کو اس وقت یاد آ سکے اس غرض سے نوٹ کر دیئے کہ میں ان تمام اصحاب کے لئے سفر میں دُعا کرتا جاؤں اور اس طرح سے ایک غائبانہ مددان تمام اشخاص کی مفتی صاحب نے فرمائی کہ جن کے نام انہوں نے تحریر کر دیئے اور وہ نام یہ ہیں مرزا ایوب بیگ صاحب ، مرزا یعقوب بیگ صاحب، جماعت لاہور خلیفہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، قاضی غلام حسین صاحب، منشی ظفر احمد صاحب۔فی الواقع جس قدر حسنات کے بنوانے میں ہمارے یہ بھائی مفتی محمد صادق صاحب بڑھے ہوئے ہیں اس پر ہمیں بھی رشک آتا ہے اور ہم انہی سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے بھی دُعا فرمائیں کہ جس قد رسوز و گداز اور بنی نوع اور خصوصاً اپنی جماعت کی سچی ہمدردی ان کے قلب میں بھری گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم کو بھی عنایت کرے۔