ذکر حبیب — Page 243
243 آج کل کے صوفیاء ایک شخص نے کسی صوفی گدی نشین کی تعریف کی۔کہ وہ آدمی بظاہر نیک معلوم ہوتا ہے اور اگر اس کو سمجھایا جاوے، تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ حق بات کو پا جاوے۔اور عرض کی کہ میرا اُس کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے کہ اگر حضور مجھے ایک خط اُن کے نام لکھ دیں تو میں لے جاؤں۔اور امید ہے کہ ان کو فائدہ ہو۔فرمایا ”آپ دو چار دن اور یہاں ٹھہریں میں انتظار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خود بخو دا ستقامت کے ساتھ کوئی بات دل میں ڈال دے۔تو میں آپ کو لکھ دوں۔“ 66 پھر فرمایا کہ ” جب تک ان لوگوں کو استقامت حسن نیت کے ساتھ چند دن کی صحبت نہ حاصل ہو جاوے۔تب تک مشکل ہے چاہیے کہ نیکی کے واسطے دل جوش مارے اور خدا کی رضاء کے حصول کے لئے دل تر ساں ہو۔اس شخص نے عرض کی کہ ان لوگوں کو اکثر یہ حجاب بھی ہوتا ہے کہ شائد کسی کو یہ معلوم ہو جاوے۔تو لوگ ہمارے پیچھے پڑ جاویں۔فرمایا ” اس کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوتے۔اور سچے دل سے اس کلمہ کو زبان سے نکالنے والے نہیں ہوتے۔“ فرمایا ” جب تک زید و بکر کا خوف درمیان میں ہے تب تک لا الہ الا اللہ کا نقش دل میں نہیں جم سکتا۔کلمہ کا اثر فرمایا’ یہ جو رات دن مسلمانوں کو کلمہ طیبہ کہنے کے واسطے تائید اور تاکید ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر اس کے کسی شخص میں شجاعت پیدا نہیں ہو سکتی۔جب آدمی لا الہ الا اللہ کہتا ہے۔تو تمام انسانوں اور چیزوں، اور حاکموں اور افسروں اور دشمنوں اور دوستوں کی قوت اور طاقت بیچ ہو کر انسان صرف اللہ کو دیکھتا ہے اور اس کے سوائے سب اس کی نظروں میں بیچ ہو جاتے ہیں۔پس وہ شجاعت اور بہادری کے ساتھ کام کرتا ہے۔اور کوئی ڈرانے والا۔اُس کو ڈرا نہیں سکتا۔فراست فرمایا ” فراست بھی ایک چیز ہے۔جیسا کہ ایک یہودی نے دیکھتے ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ دیا۔کہ میں ان میں نبوت کے نشان پاتا ہوں۔اور ایسا ہی مباہلہ کے وقت عیسائی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ آئے۔کیونکہ اُن کے مشیر نے ان کو کہہ دیا تھا کہ میں ایسے منہ دیکھتا ہوں کہ اگر وہ پہاڑ کو کہیں گے۔کہ یہاں سے ٹل جا، تو وہ ٹل جائے گا۔“