ذکر حبیب

by Other Authors

Page 242 of 381

ذکر حبیب — Page 242

242 ایک قصہ بیان کیا ہے۔کہ ایک شعبدہ باز آسمان پر لوگوں کے سامنے چڑھ گیا۔اور اوپر سے اُس کے اعضاء ایک ایک ہو کر گرے۔اور اس کی بیوی ستی ہو گئی۔لیکن وہ آسمان سے پھر اُتر آیا ، اور اُس نے اپنی بیوی کے لئے مطالبہ کیا اور ایک وزیر پر شبہ کیا۔کہ اس نے چھپا رکھی ہے۔اور یہ اس پر عاشق ہے۔اور پھر اُس کی تلاشی کی اجازت بادشاہ سے لے کر اُسی کی بغل سے نکالی۔“ فرمایا ” ایسی صورتوں میں پھر سوائے اس کے اور کچھ بات باقی نہیں رہتی ہے کہ انسان ایمان سے کام لے اور انبیاء کے کاموں کو خدا کی طرف سے سمجھے اور شعبدہ بازوں کے کاموں کو دھوکا اور فریب خیال کرے۔اور اس طرح سے یہ معاملہ بہت نازک ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو جو معجزہ عطاء فرمایا ہے، وہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم اور اصول تمدن کا ہے۔اور اُس کی بلاغت اور فصاحت کا ہے۔جس کا مقابلہ کوئی انسان کر نہیں سکتا۔اور ایسا ہی معجزہ غیب کی خبروں اور پیشگوئیوں کا ہے۔اس زمانہ کا کوئی شعبدہ بازی کا استاد ہرگز ایسا کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے نشانات کو ایک تمیز صاف عطا فرمائی تا کہ کسی شخص کو حیلہ تجبت بازی کا نہ رہے۔اور اس طرح خدا نے اپنے نشانات کھول کھول کر دکھائے ہیں۔جن میں کوئی شک وشبہ اپنا دخل نہیں پیدا کر سکتا۔ایک شخص نے کہا کہ کوئی اعتراض کرتا تھا کہ میرزا صاحب نے لیکھرام کو آپ مروا ڈالا۔فرمایا یہ ایک بیہودہ اور جھوٹ بات ہے۔مگر ان لوگوں کو یہ تو خیال کرنا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع اور کعب کو کیوں قتل کرا دیا تھا۔“ فرمایا۔” ہماری پیشگوئیاں سب اقتداری پیشگوئیاں ہیں۔اور یہ نشان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں۔“ معجزانہ فصاحت فرمایا لوگوں کی فصاحت و بلاغت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے۔اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔جیسے ایک عرب نے لکھا ہے کہ سافرت الى روم و انا على جمل ماتوم۔میں رُوم کو روانہ ہوا۔اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوا۔جس کا پیشاب بند تھا۔یہ الفاظ صرف قافیہ بندی کے واسطے لائے گئے ہیں یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے۔کہ اس میں سارے الفاظ ایسے موتی کی طرح پرو دئے گئے ہیں۔اور اپنے اپنے مقام پر رکھے گئے ہیں کہ کوئی ایک جگہ سے اُٹھا کر دُوسری جگہ نہیں رکھا جا سکتا۔اور کسی کو دوسرے لفظ سے بدلا نہیں جا سکتا۔لیکن با وجود اس کے قافیہ بندی اور فصاحت و بلاغت کے تمام لوازم موجود ہیں۔“