ذکر حبیب

by Other Authors

Page 225 of 381

ذکر حبیب — Page 225

225 ان مسلمانوں پر افسوس فرمایا۔مسلمانوں پر افسوس ہے کہ انہوں نے یہ تو مان لیا کہ آخری زمانہ کے یہود یہی مسلمان ہوں گے۔پھر یہ نہ مانا کہ آخری زمانہ کا مسیح بھی ان میں سے ہوگا۔گویا ان کے نزدیک امت محمد یہ میں صرف شر ہی رہ گیا ہے اور خیر کچھ بھی نہیں۔“ خُدا نے مسیح موعود کے حق میں کیا کہا کسی نے ذکر کیا کہ نبی بخش بٹالوی کہتا ہے۔کہ مولوی عبد الکریم صاحب اپنے خطبوں میں مرزا صاحب کے متعلق بڑا غلو کرتے ہیں۔اور اسی پر مرزا صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ہما را درجہ بڑا ہے۔فرمایا ” براہین احمدیہ کے زمانہ میں مولوی عبد الکریم صاحب کہاں تھے۔اس میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله۔اور انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی اور تیرا مخالف جہنم میں گرے گا وغیرہ۔مولوی عبد الکریم صاحب اس کے مقابلہ میں کیا کر سکتے ہیں ، جو خُدا نے کہا ہے۔“ فرمایا۔انبیاء کے کلام میں الفاظ کم ہوتے ہیں ، اور معانی بہت۔“ پانچ ہزار دعا قبول فرمایا ”جس قدر دعا ئیں ہماری قبول ہو چکی ہیں۔وہ پانچ ہزار سے کسی صورت میں کم نہیں۔“ شیطان کی ہلاکت کا وقت فرمایا ” شیطان نے آدم کو مارنے کا منصوبہ کیا تھا۔اور اس کا استیصال چاہا تھا۔پھر شیطان نے خدا سے مہلت چاہی۔اور اس کو مہلت دی گئی۔الی وقت المعلوم۔بہ سبب اس مہلت کے کسی نبی نے اس کو قتل نہ کیا۔اس کے قتل کا وقت ایک ہی مقررتھا۔کہ وہ مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہو۔اب تک وہ ڈاکوؤں کی طرح پھرتا رہا۔لیکن اب اس کی ہلاکت کا وقت آ گیا ہے۔اب تک اخیار کی قلت اور اشرار کی کثرت تھی۔لیکن شیطان ہلاک ہو گا اور اخیار کی کثرت ہوگی۔اور اشرار چوہڑ ھے چماروں کی طرح ذلیل بطور نمونہ کے رہ جائیں گے۔“ مسلمانوں میں دو غیرتیں فرمایا : ” اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو بہشت و دوزخ کی امید وہیم سے ہوتے ہیں۔دو باتیں مسلمانوں میں طبعی جوش کے طور پر اب تک موجود ہیں۔ایک سور کے گوشت کی حرمت