ذکر حبیب

by Other Authors

Page 226 of 381

ذکر حبیب — Page 226

226 خواہ مسلمان کیسا ہی فاسق ہو۔سور کے گوشت پر ضرور غیرت دکھائے گا۔اور دوسرے حرمین شریفین کی عزت۔یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کو یہ جرات نہیں ہو سکتی۔کہ حرمین پر ہاتھ ڈالنے کی دلیری کرے۔“ شیطان کا وجود اس بات کا ذکر ہوا کہ نیچری لوگ شیطان کے ہونے کے منکر ہیں۔حضرت نے فرمایا انسان کو اپنی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئیے۔احق بالامن وہ لوگ ہیں۔جو خدا کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور اس کی ماہیت و حقیقت کو حوالہ بخدا کرتے ہیں۔اب دیکھو، چار چیزیں غیر مرئی بیان ہوئی ہیں۔خدا ، ملائک ، ارواح شیطان یہ چاروں چیزیں لا یدرک ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے خدا اور رُوح کو تو مان لیا جاوے۔اور ملائک اور شیطان کا انکار کیا جاوے۔اِس اِنکار کا نتیجہ تو رفتہ رفتہ حشر اجساد کا انکار۔اور الہام کا انکار، اور خدا کا انکار ہوگا۔اور ہوتا ہے۔بسا مر تبہ انسان نیکی کا ارادہ کرتا ہے۔مگر اُسے جذبات کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔اور باوجود عقل اور سمجھ کے بے اختیار سا ہو کر فسق و فجور میں گرتا ہے۔یہ کشاکش کیا ہے۔خدا نے انسان کو اِس مسافر خانہ میں بڑے بڑے قومی کے ساتھ بھیجا ہے۔چاہئیے کہ یہ ان سب سے کام لے۔“ حشر اجساد فرمایا : ” حشر اجساد پر جو لوگ تعجب کرتے ہیں۔اُن سے سوال کرنا چاہئیے کہ پہلی پیدائش میں جبکہ اُس نے نطفہ سے انسان بنایا۔کون سی آسانی تھی ، کہ وہ تو ہو گیا اور دوسری پیدائش میں اس کے مقابل کونسی مشکل ہوگی ، جو خدا نہ کر سکے گا۔“ مصفا کنوئیں کی تمثیل فرمایا۔”انسان کو چاہئیے کہ تمام دنیا کو کالعدم جانے۔نہ کسی تعریف سے خوش ہو۔اور نہ کسی ہجو سے غمگین ہو۔نور کا طالب ہو۔اور اس کنوئیں کی طرح ہو جاوے۔جس میں مصفا پانی بھرا ہو۔ایک ایسا نکتہ اس کے دل میں آجاوے۔کہ سوائے خدا کے اور کوئی اُس کا نہیں ہے۔اس وقت یہ جانے کہ آج میری زندگی کا پہلا دن ہے۔“ رحمانیت کا کام فرمایا اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جس کا ذکر دُعائے سورۃ فاتحہ میں ہے کہ الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحیم۔رحمن سے مُراد ہے وہ خدا جو ایسے لوگوں کو مطلب پر پہنچا دیتا ہے۔جن کے لئے کوئی سبب نہ ہو۔وہ شخص جو چاروں طرف سے بالکل نا امید ہو گیا ہے۔وہ جو اپنی