ذکر حبیب

by Other Authors

Page 333 of 381

ذکر حبیب — Page 333

333 محسوس کر لیتا ہے۔ایک شخص کسی کے بچہ کو مارے۔وہ خود محسوس کر لیتا ہے۔کہ میں نے بُرا کیا۔ٹھو کے کو روٹی دے تو سمجھتا ہے کہ نیکی کی۔پس گناہ کی پہچان مشکل نہیں اور نہ اس کی نسبت قوموں میں کوئی ایسا اختلاف ہے۔شیطان کے بارے میں جیسا کہ میں نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے۔انسان کی سرشت میں دو قو تیں رکھی گئی ہیں۔ایک قوت نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور دوسری بدی کی تحریک کرتی رہتی ہے۔یہ اس لئے تا اس آزمائش میں پڑ کر پاس ہو اور بدی سے رکنے کا ثواب پائے۔اور الہی اطاعت کا انعام حاصل کرے۔دوسرے لفظوں میں اس بدی کے محرک کو شیطان کہہ لو۔ہم اکیلے شیطان کے قائل نہیں۔بلکہ ہم تو شیطان کے ساتھ فرشتہ کے بھی قائل ہیں۔ہم ان باتوں کے قائل نہیں۔جیسے عیسائی کہتے ہیں۔بلکہ ہم داعی خیر کو فرشتہ اور داعی شر کو شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔باعث وجود گناه انگریز : گناہ کا وجود ہی کیوں ہے؟ مسیح موعود : خدا کسی بدی کا ارادہ نہیں کرتا۔نہ وہ بدی پر راضی ہے۔مگر اُس نے انسان کو نیکی بدی کا اختیار دیا۔تا نیکی پر ثواب کا مستحق ہو۔کیونکہ اگر دنیا میں گناہ کا وجود نہ ہوتا تو خیر کا بھی نہ ہوتا۔اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اگر کوئی گناہ نہ ہو تو خیر ہی نہ ہو۔نیکی کیا ہے یہی کہ اگر چوری کا موقعہ ہو، تو چوری نہ کرے۔زناء کا موقعہ ہو تو زناء نہ کرے۔اب دیکھو چوری و زناء کا وجود تھا۔جبھی تو اس سے رکنے کا نام نیکی ہوا۔پس بدی کے پیدا کرنے میں یہ حکمت تھی۔دراصل یہ بدی بھی نیکی کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔دوسرا جواب یہ بھی ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کو مانتا۔اور اسے علیم و حکیم جانتا ہے۔اُسے اس کے فعلوں پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔مثلاً کوئی شخص پوچھے سورج اُس طرف کیوں جاتا ہے۔اس طرف کیوں نہیں جاتا۔تو یہ غلط ہے۔اس کے بعد پھر زیادہ تشریح کے طور پر فرمایا: ایک شخص چینے کے سوا نہیں بول سکتا جو کسی کو پسند نہیں ہے۔اور دوسرا وہ ہے جس کی آواز ہی نرم ہے۔تو اب نرم آواز کا ثواب تو پہلے ہی کو ملے گا۔اگر ایک ہی حالت رکھتا بدل ہی نہیں سکتا۔تو اس کے لئے کوئی کام نیکی کا ہو ہی نہ سکتا۔اصل میں افراط و تفریط کی حالت ہی نیکی بتاتی ہے۔پھر چونکہ اسے اختیار دیا گیا ہے کہ ہر طرف ہر پہلو میں ترقی کر سکتا ہے اس لئے دراصل بدی نیکی بنانے میں مدد دے رہی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر بدی کی طاقت انسان میں نہ ہوتی تو نیکی کا وجود ہی نہ ہوتا۔مثلاً پرندے ہیں۔وہ ایک ہی طرز پر ہیں۔اب ان کا کوئی کام نیکی کا نہیں سمجھا جاتا جیسا کہ بدی کا نہیں سمجھتے۔اگر اخلاق ذمیمہ نہ ہوتے تو کس طرح ان کے خلاف کو اخلاق حمیدہ کہتے۔جب ہم کہتے ہیں