ذکر حبیب — Page 332
332۔حقیقت گناه انگریز : دو باتیں پوچھنی چاہتا ہوں۔گناہ کس چیز کو کہتے ہیں۔ایک ملک کا آدمی ایک چیز کو گناہ قرار دیتا ہے۔دوسرا اس کو عین ثواب ، علمی طور سے یہ مانا جاتا ہے کہ انسان ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچا ہے اور اخیر میں اس کے لئے یہ امتیاز پیدا ہو گیا۔اس امتیاز کے ذریعے سے ایک کو اچھا اور ایک کو بُرا کہتا ہے۔دوم۔شیطان کیا چیز ہے اور خدا ایسا وسیع علم والا و قادر ہو کر کیوں اجازت دیتا ہے کہ شیطان اپنی بدی پھیلائے۔مسیح موعود : جو لوگ خدا کی ہستی کو مانتے ہیں۔ان کے مذاق پر ہم گفتگو کرتے ہیں۔انسان کی زندگی اسی دنیا تک محدود نہیں۔بلکہ وہ ایک قسم کی دائمی زندگی رکھتا ہے۔تمام قسم کی راحت و خوشحالی کا سر چشمہ خدا ہے۔جو شخص اس کو چھوڑتا ہے۔خواہ وہ کسی پہلو سے چھوڑتا ہے۔اس حالت میں اُسے کہا جاتا ہے کہ اُس نے گناہ کیا۔پھر خدا نے محض انسانوں کی فطرت پر نظر کر کے جو اعمال ان کے حق میں مصر پڑتے ہیں۔ان کا نام گناہ رکھ دیا۔ان میں سے بعض منا ہی ایسے ہوتے ہیں۔جن کی نہی کی حکمت تک انسان نہ پہنچ سکے۔جو شخص چوری کرتا ہے۔بے شک وہ دوسرے کا نقصان کرتا ہے۔مگر اس کے ساتھ اپنی پاک زندگانی کا بھی نقصان کرتا ہے۔اسی طرح جو زناء کرتا ہے۔وہ بھی دوسرے کے حق میں دست اندازی کرنے کے علاوہ اپنا نقصان بھی کر لیتا ہے۔پس جس قدر باتیں انسانی پاکیزگی کے خلاف ہیں۔جن سے انسان خدا سے دور ہو جاوے وہ گناہ ہے۔بعض باتیں ایسی ہی ہیں جو عام سمجھ میں نہ آ سکیں۔مگر یقین رکھو کہ خدا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ علم والا ہے۔وہ انسان کے لئے وہی بات تجویز کرتا ہے جو اس کی فطرت کے لئے بہت ضروری ہو۔جیسے ڈاکٹر بیمار کے لئے دوا تجویز کرتا ہے۔اب بیمار اس پر اعتراض کرے تو یہ اس کی غلطی ہے۔بیمار کو تو ڈاکٹر کا مشکور ہونا چاہئیے۔اگر اللہ تعالیٰ دُکھ میں ڈالنے والی اشیاء کی نسبت نہ بتا تا تو یہ بھی اس کا اختیار تھا۔مگر وہ رب العالمین ہے۔اس لئے اُس نے بتا دیا۔جیسے بیماروں کے لئے پر ہیز ہے اور اس کو تو ڑ نا گناہ ہے۔اسی طرح رُوحانی سلسلہ میں بعض پر ہیزیں ہیں جن پر کار بند رہنا خود اسی کے لئے مفید ہے۔خوب یا درکھو کہ انسان کی کچی پاکیزگی اور سچی راحت اور آرام کا موجب خدا کی محبت اور اس کا وصال ہے۔جن باتوں کو خدا اپنے تقدس کی وجہ سے نہیں چاہتا۔ان کا نہ چھوڑ نا گناہ ہے۔پھر یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ والی چیزوں کو تقریبا تمام تو میں گناہ مانتی ہیں۔مثلاً سب مذاہب میں چوری ، جھوٹ ، زناء گناہ ہے۔اور سب کو تسلیم ہے کہ یہ اللہ کے تقدس کے خلاف اور انسانی فطرت کے لئے مضر ہیں۔پھر ہر ایک شخص اپنے گناہ کو