ذکر حبیب

by Other Authors

Page 334 of 381

ذکر حبیب — Page 334

334 کہ فلاں نیک ہے تو بدی کا تصور اس کے ساتھ ضروری ہے۔یعنی فلاں بدی کے خلاف اس میں اخلاق ہیں۔اگر ایک ہی پہلو پر انسان کو پیدا کیا جاتا۔تو دوسرے پہلو پر ثواب یا عقاب نہ ہوتا۔اللہ نے ہر انسان کو دونوں پہلوؤں پر قادر کیا ہے۔جب ہی تو نیکی کی طرف جانے سے انعام ملتا ہے۔اگر کسی شخص نے باوجود انتقام لے سکنے کے معاف کر دیا تو اس کو ثواب ملتا ہے کیونکہ اُسے نیکی کی۔مگر اس نیکی کا وجود جب ہی ہوا کہ پہلے اس میں انتقام کی قوت تھی۔اگر کسی کے ہاتھ نہیں اور وہ کہے کہ میں نے فلاں بے گناہ کو مکا نہیں مارا تو یہ نیکی نہیں۔ہم نہیں سمجھتے کہ اس سے کوئی انکار کرے کیونکہ بدیہات محسوسہ مشہودہ کا انکار نہیں ہو سکتا۔ہر ایک قوت جو انسان کو دی گئی ہے۔وہ بذاتہ بُری نہیں بلکہ اس کا بد استعمال ( خلاف موقعہ محل ) اس سے بدی پیدا کرتا ہے۔اتنائن چکنے کے بعد انگریز کے دل میں ایک سائنس کا مسئلہ پیدا ہوا کہ دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔مثبت اور منفی۔مثبت کو استعمال کرتے جائیں تو منفی بڑھتی جائے گی اسی طرح اگر ہم نیکی کو استعمال کریں گے تو بدی بڑھ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔اس پر اسے سمجھا دیا گیا کہ اللہ اور انسان کے درمیان ایک خاص تعلق ہے۔انسان اللہ کو ملنا چاہتا ہے۔اس میں جدائی ڈالنے والی چیز گناہ ہے۔جوں جوں تعلق بڑھتا جاتا ہے۔قریب ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ایک خاص نقطہ پر پہنچ کر جھٹ ایک دوسرے سے مل جاتا ہے۔نجات عیسوی انگریز : میرے دوسوال ہیں۔(۱) عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ شیطان سے دُنیا گمراہ ہوگئی۔خدا نے پھر دوبارہ آکر اسے خریدا۔مسیح موعود : ہم تو اس کو لغو سمجھتے ہیں۔جو اس کے قائل ہیں۔اُن سے پوچھا جائے۔ترقی ہے یا تنزل انگریز : دُنیا کے عام نظارہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان ادنے حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کر رہا ہے۔مگر عیسائی کہتے ہیں کہ انسان اعلیٰ سے ادنے حالت کو پہنچا۔پہلے اس نے آدم کو پیدا کیا اور وہ گناہ سے ادنے حالت کو پہنچا۔مسیح موعود : ہمارا عیسائیوں سا عقیدہ نہیں بلکہ ہم آپ کے قول کی تصدیق کرتے ہیں۔( آدم کو جنت سے اُتارا گیا تو یہ اس کے کمالات کے اظہار اور ان کو بڑہانے کے لئے تھا۔بدر )