ذکر حبیب

by Other Authors

Page 150 of 381

ذکر حبیب — Page 150

150 اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان قوموں کا معاملہ اور ہے اور مسلمانوں کا اور ہے۔مسلمانوں کو کتاب دی گئی ہے۔ان کی ترقی اسی میں ہے کہ قرآن شریف کو اپنا امام بنا ئیں ، اور اس پر عمل کریں۔بے شک کالج بنائیں اور دنیوی تعلیمات اور تجارت وغیرہ کو حاصل کریں۔ہم اس سے نہیں روکتے لیکن اول یہ ضروری ہے کہ لا الہ الا اللہ۔اُن کے دل و جگر میں سرایت کرے اور اُن کے وجود کے ذرہ ذرہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت ہوا اور ہر حال میں وہ دین کو دُنیا پر مقدم کرنے والا ہو۔جب تک یہ نہ ہو گا۔مسلمان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے جبکہ خدا ہے، اور ضرور ہے تو اُسے چھوڑ کر مسلمان کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔مسلمان چاہتے ہیں کہ خدا کی بے عزتی کر کے ، اور اُس کی کتاب کی بے ادبی کر کے کامیاب ہوں اور قوم بنالیں۔وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔کفار کا معاملہ الگ ہے اور ان کے لئے مواخذہ کا دن مقرر ہے اور مسلمانوں کا معاملہ الگ ہے۔(۳۳) فراست مومن فرمایا کرتے تھے 'بار ہا تجربہ کیا گیا کہ جب کسی بات کی تحریک میرے دل میں ہوتی ہے تو وہ منجانب اللہ ہوتی ہے اور اُس کام کے کرنے میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہوتی ہے اور میرا دل اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور اُس کام کے کرنے سے دل منتظر ہوتا ہے اور میری فراست ہر شخص کے متعلق صحیح حالات کا پتہ لگا لیتی ہے۔(۳۴) نیکی کے دو پہلو فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے لئے دونوں باتیں ضروری ہیں۔بدی سے بچے اور نیکی کرنے کی طرف دوڑے۔یہی دو پہلو ہیں۔ایک ترک شر دوسرا افاضہ خیر۔اپنی بھی اصلاح کرے اور دوسروں کو بھی نفع پہنچائے۔(۳۵) بر امر آسمان پر مقدر ہوتا ہے فرمایا کرتے تھے ” پہلے ایک امر آسمان پر طے ہو جاتا ہے بعد میں زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے اسی واسطے اکثر پیشگوئیاں صیغہ ماضی میں ہوتی ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں پیشگوئی کی گئی۔تَبَّتْ يَدَا أَبِى لَهُبٍ وَّتَبُ۔ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے ، اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔جب یہ وحی الہی قرآن شریف میں بطور پیشگوئی کے نازل ہوئی اُس وقت ابولہب زندہ اور سلامت تھا لیکن آسمان پر اس کے لئے ہلاکت کا کام ہو چکا تھا۔اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ گویا یہ