ذکر حبیب — Page 69
69 بہت غصہ ہوئے اور اس کے بعد اُنہوں نے راستہ میں دیوار کھینچ دی جس کا مقدمہ مدت تک چلتا رہا اور ہمیں مسجد مبارک یا اقصیٰ کو یا بازار کو جانے کے واسطے پتھروں والی گلی میں سے ایک لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑتا۔رات بھر میں ایک کمرہ طیار کیا گیا چونکہ ڈھاب کے کنارے مکانات کے بنانے میں مرزا نظام دین صاحب و دیگر اہل قادیان بہت مزاحم ہوا کرتے تھے اور احمدیوں کو تکلیف پہنچاتے تھے اور بعض دفعہ کہیاں اور ٹوکریاں بھی چھین لے جاتے تھے۔اس واسطے بورڈنگ مدرسہ تعلیم الاسلام کا ایک کمرہ جو کہ اب مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ ہاؤس کا کمرہ ہے راتوں رات طالب علموں کی امداد سے بنایا گیا تھا۔نقل خط مکتو به حضرت مولوی شیر علی صاحب ذی الحج کی پہلی رات ۲۱ / مارچ ۱۹۰۱ء (۱) بعض انسان دیکھو گے کہ کافیاں اور شعرسُن کر وجد وطرب میں آ جاتے ہیں مگر جب مثلاً اُن کو کسی شہادت کے لئے بلایا جائے تو عذر کریں گے کہ ہمیں معاف رکھو۔ہمیں فریقین سے تعلق ہے ہمیں اس معاملہ میں داخل نہ کرو۔سچائی کا اظہار نہیں کریں گے۔ایسے لوگوں کے سرور سے دھوکا نہیں کھانا چاہئیے۔جب کسی ابتلاء میں آ جاتے ہیں تو اپنی صداقت کا ثبوت نہیں دے سکتے۔اُن کا سرور قابل تعریف نہیں۔سرور ایک عارضی چیز اور طبعی امر ہے۔بعض منکرین اسلام جن کو تمام پاکبازوں سے دلی عداوت ہے وہ بھی اس سرور سے حصہ لیتے ہیں۔ایک متعصب ہند و مثنوی مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ پڑھ کر سرور حاصل کرتا تھا حالانکہ وہ دشمن اسلام تھا۔کیا تم سانپ کو پاکباز انسان مانو گے جو بانسری سُن کر سرور میں آ جاتا ہے۔یا اُونٹ کو خدا رسیدہ قرار دو گے جو خوش الحانی سے نشہ میں آ جاتا ہے۔سچا کمال جس سے خدا خوش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنی وفاداری دکھائے۔ایسے انسان کا تھوڑا عمل بھی دوسرے کے بہت عمل سے بہتر ہے۔مثلاً ایک شخص کے دونو کر ہیں۔ایک دن میں کئی دفعہ اپنے مالک کی خدمت میں آ کر سلام کرتا ہے اور ہر وقت اس کے گرد و پیش رہتا ہے۔دوسرا اُس کے پاس بہت کم آتا ہے مگر مالک پہلے کو بہت قلیل تنخواہ دیتا ہے اور دوسرے کو بہت زیادہ۔اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ دوسرا ضرورت کے وقت اُس پر جان بھی دینے کے لئے تیار ہے اور وفادار ہے اور پہلا کسی کے بہکانے سے مجھے قتل کرنے پر بھی آمادہ ہو جائے گا یا کم از کم مجھے چھوڑ کر کسی دوسرے مالک کی ملازمت اختیار کر لے گا۔اسی طرح اگر کوئی