ذکر حبیب — Page 70
70 شخص خدا تعالیٰ سے وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا مگر پنجوقت نماز ادا کرتا ہے اور اشراق تک بھی پڑھتا ہے بلکہ کئی اور اور اد بھی تجویز کئے ہوئے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں ایک وفادار انسان سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔کیونکہ خدا جانتا ہے کہ ابتلا کے وقت وہ وفاداری نہیں دکھلائے گا جب انسان وفاداری اختیار کرے گا تو سرور لازمی طور پر اُس کو حاصل ہو جائے گا۔جیسا کہ جب کھانا آتا ہے تو دستر خوان بھی ساتھ آ جاتا ہے۔مگر یا درکھنا چاہئیے کہ کاملوں پر بھی بعض وقت قبض کے آ جاتے ہیں۔کیونکہ قبض کی وجہ سے انسان کو سرور کی قدر زیادہ ہوتی ہے اور اس کو زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے۔(۲) عشق مجازی۔خُدا تعالیٰ نے انسان کو ایک محبت کی قوت عطا کی ہوئی ہے مگر اپنے لئے نہ غیر کے لئے۔جو شخص اس خدا داد محبت کو غیر سے لگاتا ہے وہ اس محبت کے انعام کو ضائع کرتا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو اُس کی محبت فی الفور خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف جذب کرتی ہے جس سے ایک نئی بعثت اور تولد حاصل ہوتا ہے۔مگر جو غیر سے محبت کرتا ہے اُس کا نتیجہ ناکامی ہوتا ہے۔ایک حکیم کی ایک خادمہ پر ایک شخص عاشق ہو گیا۔حکیم نے اُس عورت کو خوب جلاب دیا اور فصد کھلوائی، یہاں تک کہ وہ بالکل ایک مسلول کی طرح ہوگئی۔پھر اُسے اشارہ کیا کہ کچھ طعام اُس شخص عاشق کے پاس لے جائے۔جب طعام لے کر گئی تو اُس نے اُس سے نفرت اور کراہت کی۔حکیم نے اُسے کہا کہ دراصل تو اُس پر عاشق نہیں تھا بلکہ اس گندے خون اور نجاست پر عاشق تھا جو یہ دیکھ ایک گھڑے میں جمع ہے۔یہ حقیقت عشق مجازی کی ہے۔مگر جو شخص خدا سے سچی محبت کرتا ہے۔وہ یقیناً جان لے کہ اُسی وقت آسمان سے اُس کے دل پر ایک نور نازل ہوتا ہے۔(۳) صبر - سالک کے لئے صبر شرط ہے۔گر نباشد دوست ره بردن شرط عشق است در طلب مردن نقل خط مکتو به حضرت مولوی شیر علی صاحب ۲۲ / مارچ ۱۹۰۱ ء ذی الحج کا پہلا دن فرمایا کہ منشی نبی بخش صاحب کا ایک اشتہار پڑھنے سے معلوم ہوا کہ ان کو قرآن شریف سے مناسبت ہے۔وہ مختلف آیات کو ادھر اُدھر سے ملا کر ایک نتیجہ نکال لیتے ہیں جو مناسبت کی