ذکر حبیب

by Other Authors

Page 331 of 381

ذکر حبیب — Page 331

331 ہم لوگوں کے لئے وہ ہوا ، وہ برسات ، وہ اناج مفید نہیں جو آ دم کے وقت تھا بلکہ تازہ ہوا، تازہ برسات ، تازہ اناج کی ضرورت ہے۔اور ضرور ہے کہ ہمارے لئے الگ موسمی برسات ہو۔اسی طرح خدا کی عادت ہے کہ آسمانی سلسلہ کی گذشتہ پر ورش ہمارے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔اگر کوئی خدا کا منکر ہے تو اس کے لئے بحث کا الگ طرز ہے۔اگر کوئی خدا کے وجود کا قائل ہے تو ان دو سلسلوں کو مقابل رکھ کر فائدہ حاصل کرے۔یعنی ایک جسمانی سلسلہ اور ایک روحانی سلسلہ۔جیسے وہ خدا موسمی برسات و ہوا سے جسمانی سلسلے کو تازہ کرتا رہتا ہے۔اسی طرح روحانی سلسلہ کو روحانی بارش سے تازہ کرتا ہے اگر جسمانی سلسلہ کی پرورش کرنے والی اشیاء اب ناپید ہو جاویں ، تو وہ سلسلہ نہیں رہتا۔اسی طرح اگر کہا جائے کہ رُوحانی سلسلے کے لئے جو کچھ تھا ( از قسم وحی و الہام ونشانات ) وہ پیچھے رہ گیا۔تو روحانی سلسلہ ہی موقوف سمجھو اور یہ ناممکن ہے۔پس کیا یہ ضروری نہیں کہ ہر زمانہ میں مصلحین پیدا ہوں۔انبیاء کا جو سلسلہ چلا آتا ہے۔اس کو ایک ہی نظر سے رد کر نا ٹھیک نہیں۔جو لوگ اپنے پاس ثبوت رکھتے ہیں۔ان کو صرف اتنا کہنے سے کہ میں معمولی آدمی ہوں رد کیا نہیں جاسکتا۔ہاں اگر کسی کا حق ہے تو یہ کہ وہ ثبوت طلب کرے۔سو ہم بتاتے ہیں کہ ہمارا ثبوت قصے کہانیوں پر موقوف نہیں بلکہ سامنے موجود ہے۔اس وقت موجودہ میں بڑے سے بڑا ہیئت دان نظام شمسی پر نظر ڈالنے سے اگر منصف مزاج ہوگا۔تو یہ کہے گا کہ اس کا کوئی صانع ہونا چاہئیے مگر نبی یہ بتا تا ہے کہ واقعی خدا‘ ہے۔دنیا کب سے ہے انگریز : یہ ایک چھوٹی سی زمین ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اور بھی کئی زمینیں ہیں۔اور اور بھی کئی سلسلے ہیں۔مجھے یہ عقیدہ غلط معلوم ہوتا ہے کہ صرف چند ہزار برس سے دنیا کی پیدائش شروع ہوئی۔اور خدا نے آدم و حوا کو پیدا کیا۔پھر ایک پھل کھانے سے ان کی سب اولا د گنہگار ہو گئی۔مسیح موعود : ہم کب کہتے ہیں کہ صرف یہی زمین ہے جس میں خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے۔عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔اگر کسی اور ستارے وغیرہ میں آبادی ہے اور ایسی مخلوق اس میں ہے ، جو نبوت کی محتاج ہو۔تو خدا نے وہاں بھی ضرور نبی پیدا کئے ہوں گے۔دوسرا عقیدہ بھی غلط ہے۔قرآن مجید میں ہے۔وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى کہ کوئی کسی کے لئے گنہ گار نہیں ہو سکتا۔ہمارا ہر گز یہ مذہب نہیں کہ اس چھوٹی سی زمین میں جو کچھ ہے بس یہی کچھ ہے۔اور اسی کے لئے سب سلسلہ ہے۔