ذکر حبیب — Page 16
16 بچ جاتا اس کی دہی بنایا کرتا تھا۔جس رمضان میں کسوف اور خسوف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔میں اُسوقت ہنوز ریاست جموں میں مدرس تھا اور کسی رخصت کی تقریب پر قادیان آیا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں ایک مضمون لکھا تھا جو چھپ کر قادیان آ گیا تھا۔مگر حضور نے اُسے اشاعت سے روک رکھا۔فرمایا سورج کو گہن لگ لے بعد میں شائع کیا جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ممکن ہے کوئی ایسا آسمانی تغیر واقعہ ہو کہ سُورج کو گہن ہی نہ لگے۔جس سال سُورج کو پورا گہن لگا اور سارا سورج چھپ گیا اور اذا الشـمـس کـورت کی پیشگوئی پوری ہوئی۔اُس دن مسجد اقصیٰ میں سُورج گہن کی نماز با جماعت پڑھی گئی۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی مرحوم پیش امام نماز تھے۔نمازیوں کی رقت اور رونے اور دُعا کرنے کی آوازوں سے مسجد کے گنبد میں گونج سی پیدا ہو گئی تھی۔جبکہ میں ہنوز جموں میں ملازم تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک خط میرے نام قادیان سے آیا کہ مرزا افضل احمد جموں میں محکمہ پولیس میں ملازم ہے بہت دنوں سے گھر میں اُس کا کوئی خط نہیں آیا اور اُس کی والدہ بہت گھبرا رہی ہے۔آپ اُس کا حال اور خیر خیریت دریافت کر کے بواپسی ڈاک ہمیں اطلاع دیں۔پھر دوسری دفعہ بھی ایسا ہی ایک خط آیا تھا اور ہر دو دفعہ حال دریافت کر کے لکھا گیا۔یہ غالبا ۹۴-۱۹۹۳ء کا واقعہ ہے۔مرز افضل احمد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کا پہلی بیوی سے دوسرا بیٹا تھا۔وہ شکل و شباہت میں حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب سے بہت ملتا تھا اور بے اولا د فوت ہو گیا تھا۔جب مرز افضل احمد فوت ہوئے اور اُن کے فوت ہونے کی خبر قادیان میں پہنچی تو دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرے پر اداسی تھی۔گھر میں بچے پٹانے چھوڑ رہے تھے اور حضرت اُم المومنین نے اُنہیں منع کیا کہ تمہارے بھائی کی فوتیدگی کی خبر آئی ہے پٹاخے نہ چھوڑو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیوی صاحب کو فرمایا۔یہ بچے ہیں ان کو کیا خبر ! انہیں اپنی کھیلیں کھیلنے دو اور پٹاخوں سے نہ روکو۔ایک دفعہ کا ذکر ہے موسم گرما کی رخصتوں میں میں جموں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں قادیان آیا ہوا تھا۔یہ وہ ایام تھے جبکہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ایح