ذکر حبیب — Page 15
15 تنبیہ ہے۔وہ جانتے ہیں کہ آپ مجھ سے ذکر کریں گے۔چند دن اور امرتسر میں رہ کر میں تو چلا آیا مگر حضرت صاحب کچھ دن اور وہاں ٹھیرے اور پھر لدھیانہ سے صاحب ڈپٹی کمشنر کی چھٹی آنے پر کہ آپ بھی دوسری رعیت کی طرح لدھیانہ میں رہ سکتے ہیں اور آپ پر کوئی الزام نہیں۔حضرت صاحب پھر لدھیانہ چلے گئے۔کیونکہ امرتسر پہنچ کر ڈپٹی کمشنر لدھیانہ سے خط و کتابت کی گئی تھی اِس واسطے یہ جواب وہاں سے آیا اور معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر مخالفین کو اُن کے منصوبوں میں کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔غالبا ۱۸۹ء کے دسمبر کا مہینہ تھا کہ میں اپنے ایک عزیز ہمنام دوست مولوی محمد صادق صاحب مرحوم اور خان بہادر غلام محمد صاحب جو اُس وقت جموں کے ہائی سکول میں طالب علم تھے، ہر دو کے ہمراہ قادیان گیا۔کیونکہ یہ ہر دو اصحاب حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنا چاہتے تھے۔ہر دو اصحاب نے قادیان میں بیعت کی اور ہم حضرت مسیح موعود کے ساتھ ہی قادیان سے لاہور آئے۔یہ سفر بھی انٹر کلاس میں ہوا اور لاہور کے اسٹیشن سے مکان تک یگوں میں سوار ہو کر آئے۔اُن دنوں لا ہور میں یکوں کا بہت رواج تھا اور پہلے میراں بخش صاحب کی کوٹھی پر حضرت صاحب اُترے اور اُس کے بعد ایک اور مکان کرایہ پر لیا گیا۔حضرت صاحب کی تشریف آوری پر شہر میں ایک بڑا شور مچا۔ایک بڑی جماعت ہر وقت مکان پر موجود رہتی۔زنانہ بھی حضرت صاحب کے ساتھ تھا۔جب حضرت صاحب باہر مجلس میں آ کر بیٹھتے تو کچھ تقریر فرماتے اور لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے۔اُنہی دنوں میں لاہور میں ایک شخص مہدی ہونے کے مدعی تھے مگر لوگ ان کو دیوانہ سمجھتے تھے۔وہ صاحب عالم آدمی نہ تھے۔وہ بازار میں حضرت صاحب کو اچانک آکر لپٹ گئے اور شور مچانے لگے کہ مہدی تو میں ہوں تم نے کیوں دعوی کیا ہے۔شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم نے اُن کو پکڑ کر پیچھے ہٹایا۔حضرت مسیح موعود نے شیخ صاحب کو کہا کہ ان کو چھوڑ دو اور ان پر کوئی سختی نہ کرو۔چونکہ مجھے اور مولوی محمد صادق صاحب کو اپنی ملازمت پر جلد واپس جانا تھا اس واسطے ہم صرف ایک یا دو دن وہاں رہ کر چلے گئے اور حضرت صاحب بہت دن لا ہور ٹھیرے۔مجھے یاد ہے کہ میاں خیر الدین صاحب ساکن سیکھواں بھی اس سفر میں حضرت صاحب کے ہمرکاب تھے۔جب میں پہلی دفعہ ۱۸۹۰ء کے آخر میں قادیان آیا تو اس وقت دودھ دہی بیچنے والے کی صرف ایک دکان ہندو کی تھی جو صبح ایک کڑاہی دُودھ کی لے کر بیٹھتا تھا اور اُس میں سے شام تک جو