ذکر حبیب

by Other Authors

Page 253 of 381

ذکر حبیب — Page 253

253 ملکہ کا راج بسم الله الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں میں کسی وجہ سے اپنی بیوی مرحومہ پر کچھ خفا ہوا۔جس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جا کر میری ناراضگی کا ذکر کیا۔اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔اس کے بعد میں جب مولوی عبدالکریم صاحب سے ملا تو اُنہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ کو یا درکھنا چاہئیے۔کہ یہاں ملکہ کا راج ہے۔بس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا مگر میں اُن کا مطلب سمجھ گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں۔کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر ملکہ وکٹوریہ متمکن تھیں اور دوسری طرف حضرت مولوی صاحب کا اس طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین کی بات بہت مانتے ہیں۔اور گویا گھر میں حضرت ام المومنین کی حکومت ہے۔اور اس اشارہ سے مولوی صاحب کا مقصد یہ تھا۔کہ مفتی صاحب کو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہئیے۔حضرت مسیح موعود کا حلم اور کرم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرمی مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بہت بے تکلف رہتے تھے۔جس کے نتیجہ میں خدام بھی حضور کے ساتھ ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بے تکلفی سے بات کر لیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ میں لاہور سے حضور کی ملاقات کے لئے آیا اور وہ سردیوں کے دن تھے اور میرے پاس اوڑھنے کے لئے رضائی وغیرہ نہیں تھی۔میں نے حضرت کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ حضور رات کو سردی لگنے کا اندیشہ ہے۔حضوڑا مہربانی کر کے کوئی کپڑا عنایت فرمائیں۔حضرت صاحب نے ایک ہلکی رضائی اور ایک ڈھسا ارسال فرمائے اور ساتھ ہی پیغام بھیجا کہ رضائی محمود کی ہے، اور ڈھسا میرا۔آپ ان میں سے جو پسند کریں رکھ لیں۔اور چاہیں تو دونوں رکھ لیں۔میں نے رضائی رکھ لی اور ڈھسا واپس بھیج دیا۔نیز مفتی صاحب نے بیان کیا کہ جب میں قادیان سے واپس لاہور جایا کرتا تھا تو حضور اندر سے میرے لئے ساتھ لے جانے کے واسطے کھانا بھجوایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ جب میں شام کے قریب قادیان سے آنے لگا۔تو حضرت صاحب نے اندر سے میرے واسطے کھانا منگوایا۔جو خادم کھانا لا یا۔وہ یو نہی گھلا کھانا لے آیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مفتی صاحب یہ کھانا کس طرح