ذکر حبیب

by Other Authors

Page 252 of 381

ذکر حبیب — Page 252

252 ساتھ سفر کر سکیں۔نیز آخری ایام میں چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر کے وقت عموماً ہرسٹیشن پرسینکڑوں ہزاروں زائرین کا مجمع ہو جاتا تھا۔اور ہر مذہب و ملت کے لوگ بڑی کثرت کے ساتھ حضور کو دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے تھے۔اور مخالف و موافق ہر قسم کے لوگوں کا مجمع ہوتا تھا۔اس لئے بھی کمرہ کا ریز رو کروانا ضروری ہوتا تھا۔تا کہ حضور اور حضرت والدہ صاحبہ وغیرہ اطمینان کے ساتھ اپنے کمرے کے اندر تشریف رکھ سکیں۔اور بعض اوقات حضور ملاقات کرنے کے لئے گاڑی سے باہر نکل کر سٹیشن پر تشریف لے آیا کرتے تھے۔مگر عموماً گاڑی ہی میں بیٹھے ہوئے کھڑکی میں سے ملاقات فرما لیتے تھے اور ملنے والے لوگ باہر اسٹیشن پر کھڑے رہتے تھے۔نیز مفتی صاحب نے فرمایا کہ جس سفر میں حضرت ام المومنین حضور کے ساتھ نہیں ہوتی تھیں۔اُس میں میں حضور کے قیام گاہ میں حضوڑ کے کمرے کے اندر ہی ایک چھوٹی سی چار پائی لے کر سور ہتا تھا تا کہ اگر حضوڑ کو رات کے وقت کوئی صورت پیش آئے۔تو میں خدمت کر سکوں چنانچہ اس زمانہ میں چونکہ مجھے ہوشیار اور فکرمند ہوکر سونا پڑتا تھا۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت صاحب مجھے کوئی آواز دیں، اور میں جاگنے میں دیر کروں۔اس لئے اس وقت سے میری نیند بہت ہلکی ہو گئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر کبھی مجھے آواز دیتے تھے اور میری آنکھ نہ کھلی تھی۔تو حضور آہستہ سے اُٹھ کر میری چارپائی پر بیٹھ جاتے تھے۔اور میرے بدن پر اپنا دست مبارک رکھ دیتے تھے۔جس سے میں جاگ پڑتا تھا۔اور سب سے پہلے حضور وقت دریافت فرماتے تھے۔اور حضور کو جب الہام ہوتا تھا۔حضور مجھے جگا کر نوٹ کروا دیتے تھے۔چنانچہ ایک رات ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت نے مجھے الہام لکھنے کے لئے جگایا مگر اُس وقت اتفاق سے میرے پاس کوئی قلم نہیں تھا۔چنانچہ میں نے ایک کوئلہ کا ٹکڑا لے کر اس سے الہام لکھا۔لیکن اس وقت کے بعد سے میں ہمیشہ با قاعدہ پینسل یا فونٹین پین اپنے پاس رکھنے لگا۔“ حضرت مسیح موعود کی سیر بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً صبح کے وقت سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اور عموماً بہت سے اصحاب حضور کے ساتھ ہو جاتے تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے بعض طالب علم بھی حضور کے ساتھ جانے کے شوق میں۔کسی بہانہ و حیلے سے اپنے کلاس روم سے نکل کر حضوڑ کے ساتھ ہو لیتے تھے۔اساتذہ کو پتہ لگتا تھا تو تعلیم کے حرج کا خیال کر کے بعض اوقات ایسے طلباء کو بلا اجازت چلا جانے پر سزا وغیرہ بھی دیتے تھے۔مگر بچوں کو کچھ ایسا شوق تھا کہ وہ عمو ماً موقع پا کر نکل ہی جاتے تھے۔