ذکر حبیب

by Other Authors

Page 238 of 381

ذکر حبیب — Page 238

238 باب نہم آج سے چھتیس سال قبل کے حالات ۱۸۹۹ء میں میں نے ایک خط ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم کو افریقہ بھیجا تھا۔جس میں اُن ایام کی صحبت مسیح موعود کا ذکر تھا۔وہ خط حسن اتفاق سے محفوظ رہا۔اور حضرت اکمل نے کہیں سے حاصل کر کے اپنے ایڈیٹوریل نوٹ کے ساتھ درج کیا۔اب اسے اس کتاب میں شامل کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کی بہت سی مفید باتیں درج ہیں : اکمل صاحب کا نوٹ معزز ناظرین! یہ وہ وقت ہے۔جب ہمارا صادق عثمانی دوست (ایڈیٹر بدر ) اپنے محبوب کے عشق میں سرگردان تھا۔وہ اُس پروانہ کی مانند تھا۔جو شمع کے گرد بڑی بیتابی سے ادھر ادھر پھرتا۔اور آخر پھر اس میں آکر اپنی ہستی کو مٹا دیتا ہے۔اور وہ اس بچہ کی مانند تھا۔جو بدر کامل کو دیکھ کر ہمک ہمک کر او پر اُٹھتا۔اور اُس تک پہنچنے میں مقدور بھر کوشش کرتا ہے۔یہ ابتدائی زمانہ بھی کیا ہی پر لذت زمانہ تھا۔جب ہمارا دوست جب کوئی موقعہ پاتا، تو دیوانہ وار اُٹھ دوڑتا۔نہ رات دیکھتا نہ دن۔آخر عشق صادق نے اپنا رنگ دکھایا۔اور وہ قطرہ سمندر میں آکر مل گیا۔یا یوں کہیئے کہ جس لڑی کا موتی تھا اس میں پرو دیا گیا۔اُس پچھلے زمانے کی باتیں بہت پیاری لگتی ہیں۔اور پھر اس پر نظر کرنے سے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔پیر برکت علی صاحب کی عنایت سے مجھے ایک پرانا مسودہ مل گیا ہے۔جو آج پیش کیا جاتا ہے۔ناظرین مطلع رہیں کہ سب سے پہلے ڈائری لکھنے والا میرا صادق بھائی ہے۔یہ مبارک رسم انہیں کے پر صدق ہاتھوں سے پڑی ہے۔(اکمل) خدائی کی گھڑیاں مکرمی و مخدومی اخویم ڈاکٹر رحمت علی صاحب السلام عليكم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت ہمیشہ آپ کے ساتھ اور آپ کی جماعت افریقہ کے ساتھ ہو۔مثل مشہور ہے کہ جس کو لگتی ہے ، وہی جانتا ہے اور دُوسرا کیا جانے۔امام پاک کے قدموں سے دُوری کے سبب جو کچھ آپ کے دل کا حال ہے۔اس کو میں خوب سمجھ سکتا ہوں۔کیونکہ ایسی اشیاء کے اندازہ کے واسطے میرا دل بھی ایک پیمانہ ہے۔میں مانتا ہوں۔