ذکر حبیب

by Other Authors

Page 239 of 381

ذکر حبیب — Page 239

239 کہ کوئی مضبوط ہو۔اور وہ ایسے صدموں کو کم فیل کرے۔اور کوئی میرے جیسا کمزور ہو، اور وہ ذرا سی بات پر سرگردان ہو جائے مگر شارٹ سائیٹ کے چشموں کی طرح ہر ایک شارٹ سائیڈ دوسرے شارٹ سائیڈ کے چشموں کو دیکھتے ہی فوراً تا ڑ جاتا ہے۔کہ یہ بھی اس مرض میں میرا ہی ساتھی ہے۔سو کیا ہوا کہ ہم آپ سے بہت دُور ہیں۔اور ہمیں آپ کی ملاقات اور زیارت سے کوئی وافر حصہ نہیں ملا۔بہر حال دل را بدل رہیست۔اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ احباب افریقہ کے مخلصین کے قلوب کس جوش میں بھرے ہوئے ہیں۔دراصل ملک افریقہ نے ہمارے بہت سے عزیزوں کو ہم سے جُدا کیا ہے۔اور آئے دن ہمارے جگر کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا اور ایسا ٹکڑا وہاں کھینچا جاتا ہے کہ ہماری آنکھیں بھی اُس کے پیچھے پیچھے کچھی ہوئی افریقہ کو چلی جاتی ہیں۔ابھی کل کی بات ہے۔ہماری جماعت کی رونق اور میرا مخلص دوست میاں نبی بخش صاحب ہم سے افریقہ کی خاطر جُدا ہوا۔اور اب پھر ایک صدمہ کے اُٹھانے کے واسطے ہمیں تیاری کر لینے کی صدا دی گئی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہما را جرنیل عبدالرحمن خدا اس کو اس کے نام کی طرح عبد الرحمن بنائے۔ہم سے جدا ہونے والا ہے۔بارہا دل اس مکرم دوست کے واسطے دردمند ہوتا ہے۔اور نیچے دل سے اس کے واسطے دُعا نکلتی ہے کہ خدا اس کے ساتھ ہو۔اور اس معاملہ میں دین و دنیا کے حسنات اُسے عطاء فرما دے۔آمین۔اور ابھی معلوم نہیں کہ اس افریقہ کی خاطر ہمیں اور کس کس سے جدا ہونا پڑے گا۔شاید کہ اسی واسطے اس کا نام شروع سے افریقہ رکھا گیا تھا کہ یہ ہمارے لئے فراق کا موجب ہوا۔بارے فرق اور تفریق اور فراق اس کے نام اور اس کی نیچر میں پایا جا تا ہوا معلوم ہوتا ہے۔میں حیران ہوں کہ میں کیا لکھنے بیٹھا تھا، اور کدھر نکل گیا۔مگر جب یہ بات درمیان میں آگئی ہے۔تو میں اس بات کے کہے بغیر رک نہیں سکتا۔کہ ہماری جانیں قربان ہو جا ئیں اُس پیارے کے نام پر جو احمد کا غلام، پر ہمارا لیڈ ر آ تا ہے۔کہ اس کی جوتیوں کی غلامی کے طفیل ہمارے سارے دُکھ مبدل بہ راحت ہو گئے۔اور ہمارے سارے غم مبدل بہ خوشی ہو گئے۔ہمارا ملنا اور جُدا ہونا۔سب خدا کے لئے ہو گیا۔اور ہمارا سفر اور حضر سب دین کے لئے بن گیا۔اور ہم خدا کی محبت کے قلعہ میں ایسے آگئے کہ شیطان کا کوئی تیر ہم تک نہیں پہنچ سکتا کہ ہم کو ہم و غم میں ڈالے۔خیر تو گذشتہ دو دنوں کے واسطے مجھے توفیق عطاء ہوئی تھی کہ میں تھوڑی دیر کے واسطے اس پاک سرزمین کی آب و ہوا کے ذریعہ سے اپنی بیماریوں کی مدافعت کے لئے سعی کروں۔تو آج واپس آ کر میں نے سوچا کہ جو میوے بہار کے میں لایا ہوں۔ان کے ساتھ اپنے پیارے رحمت علی کی دعوت کروں۔تا کہ کسی کی دلی دُعاء میرے واسطے بھی رحمت کا موجب ہو جائے۔لیکن انہی دنوں مکرمی مخدومی سید حامد شاہ صاحب حامد کا ایک عنایت نامہ جو میرے نام آیا تھا۔اس میں انہوں نے فرمایا