ذکر حبیب

by Other Authors

Page 228 of 381

ذکر حبیب — Page 228

228 ذلیل اور حقیر ہو جائیں گے۔“ دُعاء سے حل مشکلات فرمایا۔جو بات ہماری سمجھ میں نہ آوے۔یا کوئی مشکل پیش آوے۔تو ہمارا طریق یہ ہے کہ ہم تمام فکر کو چھوڑ کر صرف دُعاء میں اور تضرع میں مصروف ہو جاتے ہیں۔تب وہ بات حل ہو جاتی ہے۔“ ایک شاعر اور بزاز فرمایا۔افسوس ہے کہ لوگ جوش اور سرگرمی کے ساتھ قرآن شریف کی طرف توجہ نہیں کرتے۔جیسا کہ دنیا دار اپنی دُنیا داری پر یا ایک شاعر اپنے اشعار پر غور کرتا ہے۔ویسا غور قرآن شریف پر نہیں کیا جاتا۔بٹالہ میں ایک شاعر تھا اُس کا ایک دیوان ہے۔اُس نے ایک دفعہ ایک مصرع کہا ھے صبا شرمنده می گردد به رُوئے گل نگه کردن مگر دوسرا مصرع اُس کو نہ آیا اور دوسرے مصرع کی تلاش میں برابر چھ مہینے سرگردان و حیران پھرتا رہا۔بالآخر ایک دن ایک ہزار کی دوکان پر کپڑا خرید نے گیا۔بزاز نے کئی تھان کپڑوں کے نکالے، پر اُس کو کوئی پسند نہ آیا۔آخر بغیر کچھ خریدنے کے جب اُٹھ کھڑا ہوا۔تو بزاز ناراض ہوا اور کہا کہ تم نے اتنے تھان کھلوائے۔اور بے فائدہ تکلیف دی۔اس پر اس کو دوسرا مصرع سُوجھ گیا۔اور اپنا شعر اس طرح سے پورا کیا۔شعر صبا شرمنده می گردد بہ رُوئے گل نگه کردن که رخت غنچه را وا کرد و نتوانست ته کردن جس قدر محنت اُس نے ایک مصرع کے لئے اُٹھائی۔اتنی محنت اب لوگ ایک آیت قرآنی کے سمجھنے کے لئے نہیں اُٹھاتے۔قرآن جواہرات کی تھیلی ہے۔اور لوگ اس سے بیخبر ہیں۔“ (۱۴) دار الامان کی ایک شام مخفی ایمان 66 ۱۴ نومبر ۱۹۰۱ ء - حضرت اقدس بعد از نماز مغرب حسب معمول بیٹھے تھے۔ایک شخص پیش ہوا۔جو دل سے مسلمان ہو چکا تھا۔مگر بعض وجوہات کے سبب سے بظا ہر حالت کفر میں رہتا تھا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔دنیا چند روزہ ہے۔شہادت کو چُھپا نا اچھا نہیں۔دیکھو بادشاہ کے پاس