ذکر حبیب — Page 229
229 جب کوئی تحفہ لے جاوے۔مثلاً سیب ہی ہو۔اور سیب ایک طرف سے داغی ہو تو وہ اس تحفہ پر کیا حاصل کر سکے گا۔مخفی ہونے میں بہت سے حقوق تلف ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز باجماعت، بیمار کی عیادت، جنازہ کی نماز ، عیدین کی نماز وغیرہ۔یہ سب حقوق مخفی رہ کر کیونکر ادا کئے جا سکتے ہیں مخفی رہنے میں ایمان کی کمزوری ہے۔انسان اپنے ظاہری فوائد کو دیکھتا ہے۔مگر وہ بڑی غلطی کرتا ہے۔کیا تم ڈرتے ہو۔کہ کچی شہادت کے ادا کرنے سے تمہاری روزی جاتی رہے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔في السماء رزقكم وما توعدون فورب السماء والارض انه لحق کہ تمہارا رزق آسمان میں ہے۔ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے۔یہ سچ ہے۔زمین پر خُدا کے سوا کون ہے۔جو اس رزق کو بند کر سکے ، یا کھول سکے۔اور فرماتا ہے۔وهو يتولى الصالحین۔نیکوں کا وہ آپ والی بن جاتا ہے۔پس کون ہے جو مرد صالح کو ضرر دے سکے۔اور اگر کوئی تکلیف یا مصیبت انسان پر آ پڑے۔من يتق الله يجعل له مخرجا۔جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے۔خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔اور فرمایا۔ویرزقه من حيث لا يحتسب ـ وه متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے۔جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔پس خدا پر ایمان لاؤ۔خدا سے ڈرنے والے ہرگز ضائع نہیں ہوتے۔یجعل له مخرجا۔یہ ایک وسیع بشارت ہے۔تم تقویٰ اختیار کرو۔خدا تمہارا کفیل ہو گا۔اُس کا جو وعدہ ہے، وہ سب پورا کر دے گا مخفی رہنا ایمان میں ایک نقص ہے۔جو مصیبت آتی ہے۔اپنی کمزوری سے آتی ہے۔دیکھو آگ دُوسروں کو کھا جاتی ہے۔پر ابراہیم کو نہ کھا سکی۔مگر خدا کی راہ بغیر تقویٰ کے نہیں کھلتی۔معجزات دیکھنے ہوں ، تو تقویٰ اختیار کرو۔ایک وہ لوگ ہیں۔جو ہر وقت معجزات دیکھتے ہیں۔دیکھو آج کل میں عمر بی کتاب اور اشتہا رلکھ رہا ہوں۔اس کے لکھنے میں میں سطر سطر میں معجزہ دیکھتا ہوں۔جبکہ میں لکھتا لکھتا اٹک جاتا ہوں ، تو مناسب موقع فصیح و بلیغ پر معانی و معارف ، فقرات والفاظ الہام ہوتے ہیں۔اور اسی طرح عبارتیں کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں۔اگر چہ میں اس کو لوگوں کی تسلی کے لئے پیش نہیں کر سکتا۔مگر میرے لئے یہ ایک کافی معجزہ ہے۔پچاس ہزار معجزہ اگر میں اس بات پر قسم بھی کھا کر کہوں۔کہ مجھ سے پچاس ہزار معجزہ خدا نے ظاہر کرایا۔تب بھی جُھوٹ ہرگز نہ ہو گا۔ہر ایک پہلو میں ہم پر خدا کی تائیدات کی بارش ہو رہی ہے۔عجیب تر اُن لوگوں