ذکر حبیب

by Other Authors

Page 221 of 381

ذکر حبیب — Page 221

221 میں شبہ ہو کہ شاید یہ بُرے ہوں۔پس متقی وہ ہے کہ اس احتمال اور شبہ سے بھی بچے۔اور تینوں مراتب کو طے کرے۔حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ شبہ اور احتمال سے بچنے کے لئے ہم دس باتوں میں سے نو باتیں چھوڑ دیتے ہیں۔چاہئیے کہ احتمالات کا سدِ باب کیا جاوے۔دیکھو ہمارے مخالفوں نے اس قدر تائیدات اور نشانات دیکھے ہیں کہ اگر اُن میں تقویٰ ہوتا۔تو کبھی رُوگردانی نہ کرتے۔ایک کریم بخش کی گواہی ہی دیکھو۔جس نے رورو کر اپنے بڑھاپے کی عمر میں جبکہ اُس کی موت بہت قریب تھی۔یہ گواہی دی کہ ایک مجذوب گلاب شاہ نے پہلے سے مجھے کہا تھا کہ عیسی قادیان میں پیدا ہو گیا ہے اور وہ لدھیانہ میں آوے گا ، اور تو دیکھے گا کہ مولوی اس کی کیسی مخالفت کریں گے۔اس کا نام غلام احمد ہو گا۔دیکھو یہ کیسی صاف پیشگوئی ہے جو اس مجذوب نے کی۔کریم بخش کے پابند صوم وصلوٰۃ ہونے اور ہمیشہ سچ بولنے پر سینکڑوں آدمیوں نے گواہی دی۔جیسا کہ ازالہ اوہام میں مفصل درج ہے۔اب کیا تقویٰ کا یہ کام ہے کہ اس گواہی کو جھٹلایا جاوے۔تقویٰ کے مضمون پر ہم کچھ شعرلکھ رہے تھے۔اس میں ایک مصرع الہامی درج ہوا۔وہ یہ ہے: ” ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے الہامی مصرعہ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے“ اس میں دوسرا مصرع الہامی ہے۔جہاں تقویٰ نہیں ، وہاں حسنہ حسنہ نہیں۔اور کوئی نیکی نیکی نہیں۔اللہ تعالی قرآن شریف کی تعریف میں فرماتا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِینَ۔قرآن بھی انہی لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوتا ہے، جو تقویٰ اختیار کریں۔ابتداء میں قرآن کے دیکھنے والوں کا تقویٰ یہ ہے کہ جہالت اور حسد اور بخل سے قرآن شریف کو نہ دیکھیں، بلکہ ٹو ر قلب کا تقوی ساتھ لے کر صدق نیت سے قرآن شریف کو پڑھیں۔دوسری شرط قبولیت دُعاء کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دُعاء کرتا ہو۔اُس کے لئے قلب میں اضطرار پیدا ہو۔من يجيب المضطر اذا دعاہ۔صاف وقت ، لیلۃ القدر کے معنے تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفی میسر آوے۔ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ ہو۔قرآن شریف میں جو لیلۃ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہاں لیلۃ القدر کے تین معنے ہیں۔اول تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر کی ہوتی ہے۔دوم یہ کہ