ذکر حبیب

by Other Authors

Page 220 of 381

ذکر حبیب — Page 220

220 حضرت نوح کے مقابلہ میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بہت تھوڑی تھی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر نہایت مفید تھی۔تھوڑے سے عرصہ میں آپ نے بڑے بڑے مفید کام کئے۔انبیاء کے اقوال میں ایک اثر ہوتا ہے۔وہ اپنے ساتھ قوت قدسیہ رکھتے ہیں۔یہ قوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے زیادہ تھی۔دیکھو۔ایک آدمی کو راہ پر لانا اور سمجھانا کیسا مشکل ہوتا ہے۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل کروڑوں آدمی راہ پر آ گئے۔اس وقت دنیا میں تمام مذاہب کے مقابلہ پر سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔بعض جغرافیہ دانوں نے مسلمانوں کی تعداد کم لکھی ہے۔مگر محققین نے بڑے بڑے ثبوت دے کر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔کسی بات کا اثر دوطرح پر ہوتا ہے۔اعتقاداً و عملاً۔اعتقادی طور پر سارے مسلمان کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پر قائم ہیں۔اور عملی طور پر مثلا سو رکا نہ کھانا تمام مسلمانوں میں خواہ وہ کسی فرقہ یا ملک کے ہوں۔سب میں نہایت شدت کے ساتھ اس پر عمل ہوتا ہے۔بدی کے ارتکاب میں سے جھوٹ بولنا سب سے زیادہ آسان اور جلدی ہو سکنے والا ہے۔کیونکہ زناء چوری وغیرہ کے واسطے قوت ، مال، ہمت ، دلیری چاہئیے۔مگر جھوٹ کے واسطے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔صرف زبان ہلا دینی پڑتی ہے۔باوجود اس کے صحابہ میں جھوٹ ثابت نہیں۔آنحضرت کے صحابہ میں سے کسی نے بھی جھوٹ نہیں بولا۔دیکھو کتنا بڑا اثر ہے۔لیکن اس کے مقابل حضرت عیسی کے حواریوں کو دیکھو۔اپنے نبی کا عین اُس کی گرفتاری کے وقت انکار کر دیا۔ایک نے تمیں روپے لے کر اس کو پکڑوا دیا۔ایک حواری کہتا ہے کہ مسیح نے اتنے نشان دکھائے، کہ اگر لکھے جاویں۔تو دنیا میں نہ سمائیں۔دیکھو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔جو باتیں اس دُنیا میں ہوئیں، اور دکھاتے وقت سما گئیں۔وہ بعد میں کیونکر نہ سماسکتیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوئیں۔“ شرائط قبولیت دعا فرمایا ” قبولیت کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے۔تب کسی کے واسطے دُعا قبول ہوتی ہے۔شرط اول یہ ہے کہ اتقا ہو۔یعنی جس سے دُعا کرائی جائے وہ دُعا کرنے والا متقی ہو۔تقویٰ احسن و اکمل طور پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔آپ میں کمال تقویٰ تھا۔اصل تقویٰ کا یہ ہے کہ انسانیت عبودیت کو چھوڑ کر الوہیت کے ساتھ ایسا مل جاوے۔جیسا کہ لکڑی کے تختے دیوار کے ساتھ مل کر ایک ہو جاتے ہیں۔اُس کے اور خُدا کے درمیان کوئی شے حائل نہ رہے۔امور تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک یقینی بدیہی یعنی ظاہر دیکھنے میں ایک بات بُڑی یا بھلی ہے۔دوم یقینی نظری، یعنی ایسا یقین تو نہیں۔مگر پھر بھی نظری طور پر دیکھنے میں وہ امرا اچھا یا بُرا ہو۔سوم وہ امور جو مشتبہ ہوں۔یعنی ان