ذکر حبیب — Page 83
83 طاعونی جرموں کا ہلاک کرنا جب قادیان میں طاعون ہوئی (۱۹۰۲ ء اور اس کے قریب ) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مکان کے صحن میں ایک بڑا ڈھیر لکڑیوں کا روزانہ جلایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ اس سے طاعونی جرم ہلاک ہو جاتے ہیں اور خود ہمیشہ اوپر کی منزل میں مقیم رہتے تھے اور احباب کو بھی فرمایا کرتے تھے کہ حتی الوسع اُوپر کی منزلوں میں رہا کریں۔پادری پکٹ مدعی مسیحیت کو تبلیغ ۱۹۰۲ء میں ایک صاحب پادری پکٹ نام نے اپنے گرجا میں وعظ کرتے ہوئے اچا نک کہا کہ میں ہی آنے والا مسیح ہوں۔کئی ایک نمازی جو گر جا میں موجود تھے روتے ہوئے آگے بڑھے اور اس کے آگے سجدہ کیا۔جب اس کے متعلق اخباروں میں خبر آئی تو میں نے اُسے ایک خط لکھا اور مزید حالات دریافت کئے۔جب اُس کا خط اور اشتہارات میرے پاس پہنچے تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کئے اور حضور نے فوراً ایک مختصر سا اشتہار لکھا اور مولوی محمد علی صاحب کو بھیجا کہ اس کو ترجمہ کر کے ولایت بھیج دو۔اتفاقا میں اُس وقت مولوی محمد علی صاحب کے پاس ان کے دفتر میں موجود تھا جو مسجد مبارک کے ساتھ کا چھوٹا کمرہ جانب مشرق ہے اور ہم دونوں نے اُس اشتہار کو پڑھ کر دو باتوں کو خصوصیت کے ساتھ نوٹ کیا۔ایک تو یہ کہ حضرت صاحب عموماً لمبے اشتہار لکھا کرتے تھے مگر یہ اشتہار صرف چند سطروں کا تھا جو ایک چھوٹے سے صفحہ پر آ گیا۔دوم یہ کہ اس کے آخر میں حضور نے اپنا نام اس طرح لکھا تھا: النبي مرزا غلام احمد وہ اشتہار انگلستان کے اخباروں میں کثرت سے شائع ہوا مگر پکٹ صاحب نے اس کا کچھ جواب نہ دیا بلکہ بالکل خاموش ہو گئے اور پھر کبھی اپنے دعوی کا ذکر نہ کیا اور خاموشی سے اپنی بقیہ زندگی بسر کی۔انہی ایام میں عاجز راقم نے ایک تبلیغی خط پگٹ کو لکھا تھا جو درج ذیل ہے۔آج قریباً سولہ سو سال کا عرصہ گذرتا ہے کہ عیسائیوں کی قوم ایک سچے خدا خالق ارض و سموات کی عبادت چھوڑ کر اُس دل پر زلزلہ ڈالنے والی غلطی میں پڑے ہوئے ہیں کہ ایک فانی انسان یعنی مریم کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے یسوع ناصری کو خدا مانتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔وہ یسوع جو اپنی گنہگاری سے ایسا واقف تھا کہ اُس نے اپنے زمانہ کے ایک کا فر کو بھی اس بات کی