ذکر حبیب

by Other Authors

Page 43 of 381

ذکر حبیب — Page 43

43 آخر مایوس ہو کر اب پھر واپس چلے تھے۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے سچے مومنوں اور راستی کے قبول کرنے والوں اور صدق پر مثل پروانہ بر شمع کے گر کر جل مرنے والوں کی خاطر منظور ہوتی ہے اور ادنے سے ادنے تکلیف بھی وہ اپنے مخلص بندہ کی گوارہ نہیں کر سکتے۔اس لئے یہ عاجز کہ جس کی ملاقات ان دو صاحبوں کی مطلوب چیز تھی ان کی ٹمٹاتی ہوئی امید دن کے وقت آ حاضر ہوا اور پھر ہم ہر سٹہ اشخاص مل کر مکان پر آئے۔چونکہ مغرب کی نماز کا وقت تھا اور یوم المطر بھی تھا اس لئے سب سے اول وضو وغیرہ کر کے نماز مغرب و عشاء ادا کی گئی اور بعد ازاں سب نے مل کر ما حضر تناول کیا اور باوجود یکہ سخت اندھیری رات تھی اور پانی کی بوند میں گرنی بھی ابھی پورے طور سے بند نہ ہوئی تھیں کہ ان ہر دو بزرگوں نے رخصت طلب کی۔اگر چہ میں نے اس اندھیری رات اور دلدل بھرے راستہ میں ان کا جانا گوارا نہ کیا مگر تا ہم بنی نوع انسان کی سچی خدمت گزاری اور ہمدردی اور محل شناسی اور موقع بینی کی جو روح ان کے دلوں میں پھونکی گئی تھی اس نے ان کو رات کو عاجز کے مکان پر قیام نہ کرنے دیا اور آخر یہ کہہ کر کہ چونکہ آپ کی آخری رات اپنے اہل وعیال میں ہے ہم اہالیان خانہ کو تکلیف دینا گوارا نہیں کرتے۔وہ دونوں صاحب قریب ۹ بجے رات کے شہر لاہور کو روانہ ہوئے۔بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کی نظیر ان ہمارے دوستوں نے دکھائی جس کی اس زمانہ کو بہت ضرورت ہے اور خصوصاً اہل اسلام کو، کیونکہ اس سخت اندھیری رات اور پانی برسنے اور ناہموار زمین پر دلدل کی کثرت ان تمام تکلیفوں کو ہمارے دوستوں نے برداشت کیا۔مگر ان کے سبب سے جو تکلیف تھوڑی یا بہت کہ دراصل جس کی مقدار ان کی تکالیف کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ تھی اہالیان خانه عالم مستورات کو پہنچ سکتی تھی ، اس کو ان کے رحم سے بھرے اور دوسرے کو آرام وامن دینے والے دل نے قبول نہ کیا۔اللہ تعالیٰ ان کو اس ایثار کی جزائے خیر دے۔آج مغرب اور عشاء کی نماز ہمارے بھائی محمد صادق صاحب نے پڑھائی اور جو دعائیں اُن میں آخری رکوع کے بعد انہوں نے اپنے مولی و کریم سے طلب کیں وہ مجھے بہت ہی پیاری لگیں اور ان کی اس اخلاص بھری نماز نے عاجز کے دل کو بہت سی آلودگیوں سے دھویا اور جس ادب اور تضرع کی آواز سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالی میں التجا کرنی چاہئیے وہ آداب بحق مجھے ان کی نماز سے زیادہ تر توضیح کے ساتھ معلوم ہوئے۔دراصل یہ وہ لوگ ہیں کہ کوئی مہینہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں دو تین دفعہ اس نور کے چشمہ سے پانی نہ پی آویں جسے فارسی نسل کا ایک شخص آسمان سے زمین پر لا یا صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم وہ ہیں کہ اس چشمہ نور سے ہزاروں کوس دُور پڑے ہیں اور صرف اپنے