ذکر حبیب

by Other Authors

Page 42 of 381

ذکر حبیب — Page 42

42 گیا اور شکست فاش دی گئی۔میں نے آ کر یہ خبر حضرت صاحب کے حضور عرض کی۔حضور نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا ”میں نے سمجھا کہ یہ خبر لائے ہیں کہ یورپ مسلمان ہو گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضور کے نزدیک سب سے بڑی خوشخبری اس میں تھی کہ بلا دکفر میں اسلام پھیل جائے۔ایک ناول میں عیسی قریباً ۱۸۹۸ء کا ذکر ہے۔ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں خط لکھا کہ میں نے ایک کتاب پڑھی ہے جس میں کسی عیسی کا پہلے زمانہ میں مثبت میں جانا اور سیاحت کرنا لکھا ہے۔میں نے وہ کتاب لے کر پڑھی تو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک ناول تھا جو زمانہ حال میں کسی انگریز نے لکھا تھا۔میں نے اُس انگریز کو خط لکھا اور دریافت کیا کہ یہ عیسی کون ہے جس کا ذکر تم نے اپنے ناول میں کیا ہے اور کیا اس کی تہ میں کوئی حقیقت ہے یا محض ایک فرضی قصہ ہے۔اس کا جواب آیا کہ جب میں نے یہ ناول لکھا تھا اُس وقت ممکن ہے کہ یہ کیریکٹر میں نے کسی تاریخی بناء پر لیا ہو، مگر اب مجھے کچھ یاد نہیں رہا کہ اس ناول کے خیالات میں نے کہاں کہاں سے جمع کئے تھے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے مناسب نہ سمجھا کہ اُس پر کچھ توجہ کی جائے۔تحریر محمد افضل خان مرحوم اپریل ۱۸۹۸ء (۱) آج کا دن بھی ایک مبارک دن تھا کہ جو ہمیں مشکل سے بھولے گا۔اس دن کی شام خصوصیت کے ساتھ بہت سی برکتوں سے بھری ہوئی تھی کہ جس نے ہمارے مکان کو بھی کچھ عرصہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت اور نور سے بھرے ہوئے دو چہروں سے روشن اور منور کر دیا تھا۔جو شخص اس حال کو ایک ذرہ سی عمیق نظر سے بھی غور کرے گا تو امید ہے کہ اُس پر صادقوں کا صدق ضرور کھل جائے گا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آج لاہور میں دن بھر بوند میں پڑتی رہیں کہ جس کی وجہ سے ہر ایک گلی کو چہ اور سڑک ایک دلدل بنا ہوا تھا اور عین مغرب کی نماز کے وقت جبکہ بندہ شہر سے اپنے سفر کے لئے ضروریات خرید کر کے لا رہا تھا مکان سے چند قدموں کے فاصلہ پر ہمارے رُوحانی بھائی مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی فضل الہی صاحب قصبہ مزنگ سے واپس ہوتے ہوئے ملے۔ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ چونکہ بندہ کی تاریخ روانگی ۱۲ / فروری مشہور ہو چکی تھی اس لئے الوداعی ملاقات کے لئے یہ دونوں اصحاب عاجز کے مکان پر تشریف لائے تھے اور بہت سے انتظار کے بعد