ذکر حبیب — Page 37
37 ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ عبداللہ نے بڑی غلطی کی جو ایسا ایسا بیان دیا اور یہ سارا واقعہ سُنایا۔اس بات کو سُن کر میں نے دیکھا کہ حضور کا چہرہ غمناک سا ہوا اور آپ نے فرمایا۔مفتی صاحب معلوم نہیں وہ بیچارہ کس مصیبت میں ہے اور وہاں کی حکومت اور پولیس وغیرہ اس کو کس تکلیف میں گرفتار کر رہی ہے۔آپ کے ساتھ اس کی محبت ایسی ہی تھی جیسی بھائیوں سے ہوتی ہے اور مولوی صاحب بھی اس کی ایسی ہی پرورش کرتے تھے جیسے بیٹوں کی کی جاتی ہے۔اور ہمارا باغ تو مریدوں ہی کا ہے اگر وہ اس طرح مصیبت سے بچ سکتا ہے تو ہم اس کو ہی دیدیں گے۔اگر آپ سے کوئی پولیس والا دریافت کرنے آوے تو آپ اس کے بیان کی تردید نہ کریں۔بلکہ تصدیق کر دیں۔تا کہ وہ مصیبت سے بچ جائے۔قبول دعوت لاہور میں ایک احمدی بھائی صوفی احمد دین صاحب ڈوری باف ایک غریب ان پڑھ مخلص احمدی تھے۔۱۸۹۷ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود چند اور خدام کے ساتھ ایک شہادت کے واسطے ملتان تشریف لے گئے تو راستہ میں لاہور میں ایک دور وز ٹھیرے۔صوفی احمد دین صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ اُن کے گھر میں جا کر کھانا کھائیں اور محبت کے جوش میں جلدی سے یہ بھی کہہ دیا کہ میں بڑے اخلاص اور محبت کے ساتھ دعوت کرتا ہوں۔اگر حضوڑ مجھے غریب جان کر نا منظور کریں گے تو مجھے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔حضرت نے تبسم فرمایا اور دعوت قبول کی اور ان کے مکان پر تشریف لے گئے جو ایک بہت غریبا نہ تنگ سا مکان تھا اور اُس کی دیواروں پر ہر طرف پا تھیاں تھی ہوئی تھیں۔عر بی لکھنے کا امتحان نجف کے ایک فاضل عبد الحي نام اپنے رشتہ دار عبد اللہ عرب کی تلاش میں غالباً ۱۸۹۷ء میں پہلی دفعہ قادیان آئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ساتھ مباحثات کرتے رہے۔اُن کو یہ شبہ تھا کہ عربی کتا ہیں جو حضرت صاحب نے لکھی ہیں وہ حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ اُنہوں نے مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے حضرت صاحب سے عرض کی نوٹ : - ایسی بات خاص حالتوں میں خاص اصحاب کو کہی جاسکتی ہے۔ان باتوں سے کوئی عام قاعدہ یا قانون نہیں بنایا جا سکتا۔