ذکر حبیب — Page 38
38 کہ یہ قلم دوات اور کاغذ ہے۔آپ میرے ساتھ عربی لکھیں۔حضرت نے فرمایا کہ میں بغیر اذن الہی کے اس طرح لکھنا شروع کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے میرا ہاتھ یہیں شل ہو جائے یا مجھے سب علم ہی بھول جائیں۔اس کے چند روز بعد عرب صاحب ایک سوال عربی زبان میں لکھ کر مسجد میں لے کر گئے اور بعد نما ز حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور قلم دوات بھی جواب لکھنے کے واسطے حاضر کی۔حضرت صاحب نے اسی وقت اس کا جواب نہایت فصیح اور بلیغ عربی میں تحریر کر دیا۔ایسا ہی چند روز کے بعد عرب صاحب پھر ایک سوال لکھ کر لے گئے اور حضرت صاحب نے اس کا جواب بھی وہیں بیٹھے ہوئے نہایت فصاحت کے ساتھ مفضل لکھ دیا۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے وقفوں کے بعد اس طرح کے کئی ایک سوالات کے جوابات عربی زبان میں اپنے سامنے تحریر کرا کر عرب صاحب نے تشقی پائی کہ بے شک حضرت صاحب کو خدا تعالیٰ نے فصیح اور بلیغ عربی لکھنے کی طاقت عطا فرمائی ہے اور اس کے بعد بیعت کر کے وہ داخل سلسلہ حقہ ہوئے اور سلسلہ کی تائید میں کئی کتا بیں اور رسالے تصنیف کئے۔اُن کی ایک قابل قدر تالیف لغات القرآن بھی ہے۔تر کی سفیر حسین کا می غالباً ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ لاہور میں تر کی سفیر جو کراچی میں ان دنوں متعین تھے اور جن کا نام حسین کا می تھا، سیر کے طور پر آئے۔احمدی احباب تبلیغ کے شوق سے اُن کے پاس پہنچے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات ان کو سُنائے اور مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار ڈر شین اُن کی مجلس میں پڑھے جن کا اُن پر بہت اچھا اثر ہوا اور انہوں نے قادیان آنے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی خواہش ظاہر کی۔احباب لاہور نے اس خبر کو بطور اپنے کارناموں کے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی خدمت میں عرض کیا۔حضور نے ہماری اس کا رروائی کو کچھ اچھی نگاہ سے نہ دیکھا کیونکہ اس میں ہم ایک دنیا دار کو خوش کرنے اور اپنی طرف کھینچنے کے خواہشمند ہورہے تھے۔لیکن چونکہ ہم سفیر کے ساتھ یہ طے کر چکے تھے کہ وہ قادیان آوے اِس واسطے حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا آنے دو۔لاہور سے وہ امرتسر آیا اور امرتسر میں بھی ہم اس سے ملتے رہے اور امرتسر سے وہ قادیان آیا اور علیحدگی میں حضرت صاحب سے عرض کی کہ سلطان روم اور اس کی حکومت کے واسطے دُعا کریں۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں اپنے کشف میں ان لوگوں کی دینی اور اخلاقی حالت اچھی نہیں دیکھتا۔جب تک وہ اپنی اصلاح نہ کریں