ذکر حبیب — Page 230
230 کے دل ہیں۔جو ہم کو مُفتری کہتے ہیں۔مگر وہ کیا کریں۔ولی را ولی می شناسد۔کوئی تقوی کے بغیر ہمیں کیونکر پہچانے۔رات کو چور چوری کے لئے نکلتا ہے۔اگر راہ میں گوشہ کے اندر کسی ولی کو دیکھے۔جو عبادت کر رہا ہو۔وہ یہی سمجھے گا۔کہ یہ بھی میری طرح کوئی چور ہے۔خدا عمیق در عمیق چُھپا ہوا ہے۔اور ایسا ہی وہ ظاہر در ظاہر ہے۔اس کا ظہور اتنا ہوا کہ وہ مخفی ہو گیا۔جیسا سورج کہ اس کی طرف کوئی نہیں دیکھ سکتا۔خدا کا پتہ حق الیقین کے طور پر نہیں پا سکتے۔جب تک کہ تقویٰ کی راہ سے قدم نہ ماریں۔دلائل کے ساتھ ایمان نہیں قوی ہو سکتا۔بغیر خدا کی آیات دیکھنے کے ایمان پورا نہیں ہوسکتا۔یہ اچھا نہیں کہ کچھ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا ہو۔صحابہ کو دیکھو۔کس طرح اپنی جانیں شارکیں۔ابو بکر جب ایمان لایا ، تو اس نے دُنیا کا کونسا فائدہ دیکھا تھا۔جان کا خطرہ تھا۔اور ابتلاء بڑھتا جاتا تھا۔مگر صحابہ نے صدق خوب دکھایا۔ایک صحابی کا ذکر ہے ، وہ کمبل اوڑھے بیٹھا تھا۔کسی نے اس کو کچھ کہا حضرت عمر پاس سے دیکھتے تھے۔انہوں نے فرمایا۔اس شخص کی عزت کرو۔میں نے اس کو دیکھا۔کہ یہ گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔اور اس کے آگے پیچھے کئی کئی نو کر چلتے تھے۔صرف دین کی خاطر اس نے سب سے ہجرت کی۔دراصل یہ آنحضرت کی رُوحانیت کا زور تھا۔جو صحابہ میں داخل ہوا۔اُن کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں۔ہرامر میں ایک کشش ہوتی ہے دیکھو د یوار کی اینٹوں میں ایک کشش ہے ورنہ اینٹ سے اینٹ الگ ہو جائے ایسی ہی ہر جماعت میں ایک کشش ہوتی ہے۔یہ ہوتا آیا ہے کہ ہر نبی کی جماعت میں سے کچھ لوگ مُرتد بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ایسا ہی موسی اور عیسی۔اور آنحضرت کی جماعت کے ساتھ ہوا۔ان لوگوں کا مادہ خبیث ہوتا ہے۔اور ان کا حصہ شیطان کے ساتھ ہوتا ہے۔مگر جو لوگ اس صداقت کے وارث ہوتے ہیں، وہ اس پر قائم رہتے ہیں۔غرض خدا کی راہ میں شجاع بنو۔انسان کو چاہئیے۔کبھی بھروسہ نہ کرے کہ کل رات میں زندہ رہوں گا۔بھروسہ کرنے والا ایک شیطان ہوتا ہے۔انسان بہادر بنے۔یہ بات زور بازو سے نہیں ملتی۔دُعا کرے اور دُعاء کراوے۔صادقوں کی صحبت اختیار کرے۔سارے کے سارے خدا کے ہو جاؤ۔دیکھو کوئی کسی کی دعوت کرے، اور نجس ٹھیکرے میں روٹی لیجاوے تو اُسے کون کھائے گا۔وہ تو اُلٹا مار کھائے گا۔باطن بھی سنوار دو اور ظاہر بھی درست کرو۔انسان اعمال سے ترقی نہیں کر سکتا۔آنحضرت کا رتبہ سمجھنے سے انسان ترقی کر سکتا ہے۔" (۱۵) ڈائری حضرت امام ہمام علیہ السلام پہلے عوام پکڑے جاتے پھر خواص ۱۷۔اپریل ۱۹۰۲ ء بعد نماز مغرب فرمایا ” طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں