ذکر حبیب

by Other Authors

Page 211 of 381

ذکر حبیب — Page 211

211 طے کرو۔انبیاء کے نمونہ کو قائم رکھو۔جتنے نبی آئے۔سب کا مدعا یہی ہے۔کہ تقویٰ کی راہ سکھلائیں۔ان اولیاءه الا المتقون - مگر قرآن شریف نے تقویٰ کی باریک راہوں کو سکھلایا ہے۔کمال نبی کا کمال امت کو چاہتا ہے۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین تھے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اس لئے آنحضرت پر کمالات نبوت ختم ہوئے۔کمالات نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم نبوت ہوا۔جو خدا تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے۔اور معجزات دیکھنا چاہے۔اور خارق عادت دیکھنا منظور ہو۔تو اس کو چاہئیے کہ وہ اپنی زندگی بھی خارق عادت بنالے۔دیکھو امتحان دینے والے منتیں کرتے کرتے مدقوق کی طرح بیمار اور کمزور ہو جاتے ہیں۔پس تقویٰ کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے ہر ایک تکلیف اُٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔جب انسان اِس راہ پر قدم اُٹھاتا ہے۔تو شیطان اس پر بڑے بڑے حملے کرتا ہے۔لیکن ایک حد پر پہنچ کر آخر شیطان ٹھہر جاتا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب انسان کی سفلی زندگی پر موت آ کر وہ خدا کے زیر سایہ ہو جاتا ہے۔وہ مظاہر الہی اور خلیفتہ اللہ ہوتا ہے۔مختصر خلاصہ ہماری تعلیم کا یہی ہے۔کہ انسان اپنی تمام طاقتوں کو خدا کی طرف لگا دے۔مسیح ناصری کی پیدائش مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا ” ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے۔اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں۔نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر ہیں۔ایسے لوگوں کا خدا مر دہ خدا ہے۔اور ایسے لوگوں کی دُعاء قبول نہیں ہوتی ، جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بن باپ نہیں پیدا کر سکتا۔ہم ایسے آدمیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ تمہاری حالتیں ایسی رڈی ہو گئی ہیں کہ اب تم میں کوئی اس قابل نہیں جو نبی ہو سکے۔اس واسطے آخری خلیفہ موسوی کو اللہ تعالیٰ نے بن باپ پیدا کیا۔اور ان کو سمجھایا کہ اب شریعت تمہارے خاندان سے گئی۔اسی کی مثل آج یہ سلسلہ قائم کیا ہے کہ آخری خلیفہ محمدی یعنی مهدی و مسیح کو سیدوں میں سے نہیں بنایا۔بلکہ فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک کو خلیفہ بنایا۔تا کہ یہ نشان ہو کہ نبوت محمدی کی گدی کے دعویداروں کی حالت تقویٰ اب کیسی ہے۔“ شخصی تبلیغ پند اں مفید نہیں فرمایا: ” انبیاء کا قاعدہ ہے کہ شخصی تدبیر نہیں کرتے۔نوع کے پیچھے پڑتے ہیں۔جہاں شخصی