ذکر حبیب — Page 212
212 تدبیر آئی وہاں چنداں کامیابی نہ ہوئی۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ یہ حال ہوا۔“ (۷) ڈائری حضرت اقدس امام علیہ السلام تمہید۔قادیان آنے کی ضرورت ۱۷ جولائی ۱۹۰۱ء کی رات کو حضرت اقدس مقدمہ دیوار پر گورداسپور گئے ہوئے تھے۔اس رات کو گرمی کی مدت تھی۔اکثر لوگ بے خوابی سے پریشان ہورہے تھے۔آدھی رات کا وقت تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو جماعت انبیاء کی طرح فطرتا آگ سے پناہ چاہنے والے اور بُر د میں سلامتی چاہنے والے تھے۔اپنے بالاخانہ پر ٹہل رہے تھے کہ آپ کو ٹھنڈے پانی کی خواہش ہوئی۔کوچہ میں چند نو جوان احتیاطاً حفاظت کے لئے پہرہ دے رہے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔مولوی صاحب نے اُن کو فرمایا۔کہ کوئی ایسا با ہمت تم میں ہے۔جو تازہ ٹھنڈا پانی کنوئیں سے لائے۔ایک جوان حصولِ ثواب کا خواہشمند دوڑا ہوا گیا۔اور پانی لے آیا۔مگر مولوی صاحب تیسری چھت پر اور دروازے بند۔ناچار مولوی صاحب نے اوپر سے کپڑا لٹکا یا۔اور پانی اوپر کھینچا۔اور مولوی صاحب نے پانی پیا۔اور فرمایا کہ اتنی دیر میں پانی کی آب جاتی رہتی ہے۔یہ سارا قصہ صرف اس آخری فقرہ کی خاطر میں نے بیان کیا ہے جو حضرت مولوی صاحب کے منہ سے نکلا ہے۔اللہ اللہ اگر تم چشمہ کے سر پر بیٹھ کر چشمہ کا پانی پیو۔تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔اور اگر اس پانی کو دُور لے جاؤ۔اور اس پر بہت زمانہ گذر جائے۔تو پھر رفتہ رفتہ اس کی کیا حالت ہو جاتی ہے۔شریعت کی مثال عالم کشف میں پانی کے ساتھ ہے۔دیکھو یہود کا حضرت عیسی کے زمانہ تک کیا حال ہوا۔اور پھر نصاری و یہود نے آنحضرت کے وقت کیا کیا۔کیا کر تو تیں دکھا ئیں۔دُور کیوں جاؤ۔اس زمانہ میں مسلمانوں نے حضرت امام مہدی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔یہ لوگ چشمہ ہدایت سے ایسی نفرت کرنے والے اور دُور بھاگنے والے ہوئے۔کہ قرآن کے ہوتے ہوئے ان کے پاس کوئی قرآن نہیں۔اور ٹور کے ہوتے ہوئے ان کے درمیان کوئی نو ر نہیں۔یہ سب اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ اس چشمہ سے دُور جا پڑے ہیں۔ورنہ شریعت کا پانی اب تک ویسا ہی صاف اور پاک ہے۔جیسا کہ پہلے تھا۔جس کا جی چاہے مسیح موعود کے قدموں میں رہ کر اس بات کو آزما لے۔صدق اور اخلاص کے ساتھ اس پاک امام کی صحبت انسان کو کیا کچھ انعام کا مستحق کرتی ہے۔اس پاک اور خدا نما مجلس کی گفتگو ایک ادنی سانمونہ تم اس ڈائری میں دیکھتے ہو اور اس کی مثال بھی اسی پانی کی سی ہے۔جو چشمہ سے دُور کسی کے