ذکر حبیب

by Other Authors

Page 210 of 381

ذکر حبیب — Page 210

210 ہوتا ہے۔مگر چاہئیے کہ تقویٰ خالص ہو، اور اس میں شیطان کا کچھ حصہ نہ ہو۔ورنہ شرک خُدا کو پسند نہیں۔اور اگر کچھ حصہ شیطان کا ہو۔تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ سب شیطان کا ہے۔خدا کے پیاروں کو جو دکھ آتا ہے۔وہ مصلحت الہی سے آتا ہے۔ورنہ ساری دُنیا اکٹھی ہو جائے۔تو ان کو ایک ذرہ بھر تکلیف نہیں دے سکتی۔چونکہ وہ دُنیا میں نمونہ قائم کرنے کے واسطے ہیں۔اس واسطے ضروری ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں تکالیف اُٹھانے کا نمونہ بھی لوگوں کو وہ دکھا ئیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس سے بڑھ کر تر در نہیں ہوتا۔کہ اپنے ولی کی قبض روح کروں۔خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے ولی کو کوئی تکلیف آوے۔مگر ضرورت اور مصالح کے واسطے وہ دُکھ دیئے جاتے ہیں۔اور اس میں خود ان کے لئے نیکی ہے۔کیونکہ ان کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔اور انبیاء اور اولیاء کے لئے تکلیف اس قسم کی نہیں ہوتی۔جیسی کہ یہو د کولعنت اور ذلت ہورہی ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے۔بلکہ انبیاء شجاعت کا ایک نمونہ قائم کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو اسلام کے ساتھ کوئی دشمنی تھی۔مگر دیکھو جنگ حنین میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے۔اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرت کی شجاعت ظاہر ہو۔جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقعہ نہیں ملا۔ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ صرف اتنے پر وہ مغرور نہ ہو جاویں۔کہ ہم نماز و روزہ کے پابند ہیں۔یا موٹے موٹے جرائم مثلاً زنا۔چوری وغیرہ نہیں کرتے۔ان خوبیوں میں تو اکثر غیر فرقہ کے لوگ مشرک وغیرہ تمہارے ساتھ شامل ہیں۔تقویٰ کا مضمون باریک ہے۔اس کو حاصل کرو۔خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔جس کے اعمال میں کچھ بھی ریا کاری ہو۔خدا اس کے عمل کو واپس الٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔متقی ہونا مشکل ہے۔مثلا اگر کوئی شخص تجھے کہے، کہ تو نے قلم چرایا ہے۔تو تو کیوں غصہ کرتا ہے۔تیرا پر ہیز تو محض خدا کے لئے ہے۔یہ پیش اس واسطے ہوا کہ رو بجق نہ تھا۔جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں۔وہ متقی نہیں بنتا۔معجزات اور الہامات بھی تقویٰ کی طرح ہیں مگر اصل تقویٰ ہے۔اس واسطے تم الہامات اور رؤیا کے پیچھے نہ پڑو۔بلکہ حصول تقویٰ کے پیچھے لگو۔جو متقی ہے، اُسی کے الہامات بھی صحیح ہیں۔اور اگر تقو کی نہیں تو الہامات بھی قابلِ اعتبار نہیں۔اُن میں شیطان کاحصہ ہوتا ہے۔کسی کے تقولی کو اس کے ملہم ہونے سے نہ پہچانو۔بلکہ اُس کے الہاموں کو اس کی حالت تقویٰ سے جانچو۔اور اندازہ کرو۔سب طرح سے آنکھیں بند کر کے پہلے تقویٰ کے منازل کو