ذکر حبیب — Page 5
5 بیعت دوسرے یا تیسرے دن میں نے حافظ حامد علی صاحب سے کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت صاحب مجھے ایک علیحدہ مکان میں لے گئے۔جس حصہ زمین پر نواب محمد علی خاں صاحب کا شہر والا مکان ہے اور جس کے نیچے کے حصہ میں مرکزی لائبریری رہ چکی ہے جس کے بالا خانہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رہ چکے ہیں ) آجکل اگست ۱۹۳۵ء میں وہ بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا ہے ) اس زمین پر اُن دنوں حضرت صاحب کا مویشی خانہ تھا۔گائے، بیل اُس میں باندھے جاتے تھے۔اس کا راستہ کو چہ بندی میں سے تھا۔حضرت صاحب کے اندرونی دروازے کے سامنے مویشی خانہ کی ڈیوڑھی کا دروازہ تھا۔یہ ڈیوڑھی اُس جگہ تھی ، جہاں آج کل لائبریری کے دفتر کا بڑا کمرہ ہے۔اس ڈیوڑھی میں حضرت صاحب مجھے لے گئے اور اندر سے دروازہ بند کر دیا۔ان ایام میں ہر شخص کی بیعت علیحدہ علیحدہ لی جاتی تھی۔ایک چارپائی بچھی تھی۔اُس پر مجھے بیٹھنے کو فرمایا۔حضرت صاحب بھی اُس پر بیٹھے۔میں بھی بیٹھ گیا۔میرا دایاں ہاتھ حضرت صاحب نے اپنے ہاتھ میں لیا اور دس شرائط کی پابندی کی مجھ سے بیعت لی۔دس شرائط ایک ایک کر کے نہیں دُہرائیں بلکہ صرف لفظ دس شرائط کہہ دیا۔- واپسی قادیان قادیان سے بیعت کر کے میں اپنی ملازمت پر جموں واپس گیا۔جہاں میں ہائی سکول میں انگلش ٹیچر تھا۔راستہ میں ایک دن لاہور رہا اور مولوی محمد صادق صاحب ( مرحوم ) کے دوستوں میرے ایک نہایت ہی عزیز دوست مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم ( برادر ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب لاہوری ) کلانوری تھے جن کی ایک ہمشیرہ مکرمی ناصر شاہ صاحب ناظم عمارت ہائے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے گھر میں ہے۔یہ مرزا ایوب بیگ صاحب ایک ہی ایسے خوش نصیب آدمی ہیں جنکی وفات مقبرہ بہشتی کے قیام سے کئی سال پہلے ہو چکی تھی۔مگر حضرت صاحب نے اجازت دی کہ انکی ہڈیاں فاضل کا ضلع فیروز پور سے صندوق میں لا کر مقبرہ بہشتی میں دفن کی جائیں۔اللہ تعالے انہیں جنت میں بلند درجات نصیب کرے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت لاہور میں غالبا ۱۸۹۲ ء میں کی تھی۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں حضرت صاحب کی بیعت کرنے کے واسطے علیحدہ کمرہ میں داخل ہوا تو حضرت نے بیعت لینے کے وقت فرمایا۔کہ کہو میں دس شرائط پر عمل کرونگا۔میں نے عرض کی کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ دس شرائط کیا ہیں۔تب آپ نے ایک ایک شرط مجھ سے کہلوائی۔صادق