ذکر حبیب

by Other Authors

Page 6 of 381

ذکر حبیب — Page 6

6 ( مولوی اصغر علی - وحی صاحب وغیرہ) سے اور شیخ عبداللہ صاحب سے ملا جو اُس وقت لا ہور انٹرنس کلاس میں تعلیم پاتے تھے۔( اور آج کل علیگڑھ میں وکیل اور مسلم یونیورسٹی کے ایک رُکن ہیں ) شیخ صاحب موصوف کو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ہی مسلمان کیا اور اپنے خرچ سے لاھور و علیگڑھ میں تعلیم دلائی۔اس واسطے ان کے ساتھ رُوحانی برادری کا تعلق تھا۔اس کے بعد عاجز جب تک جموں میں رہا ہر سال موسم گرما کی رخصتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ایک دفعہ ان رخصتوں کے علاوہ بھی آیا جب کہ مولوی فاضل محمد صادق صاحب ( مرحوم ) اور خان بہادر غلام محمد آف گلگت اینڈ لداخ میرے ساتھ تھے اور ان ہر دو اصحاب نے بیعت کی۔یہ واقعہ غالباً ۲ ۱۸۹ء کا ہے اور ہم قادیان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ لاہور گئے تھے اور لاہور سے پھر قادیان چلے گئے۔دعوی مسیحیت اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ میں اس امر کے الہامی اشارات صاف پائے جاتے تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح اور مہدی بنایا ہے لیکن وضاحت کے ساتھ حضوڑ نے اپنا دعویٰ مسیح ہونے کا سب سے پہلے کتاب فتح اسلام میں شائع کیا جو ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی۔میں قادیان میں کہاں ٹھہرتا تھا جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا جو کہ غالباً دسمبر ۱۸۹۰ء کے آخر میں تھا۔اُس وقت میں اُس کمرے میں ٹھیرایا گیا جسے گول کمرہ کہتے ہیں۔اس کے آگے وہ تین دیواری نہ تھی جو اب ہے۔اُس وقت یہی مہمان خانہ تھا اور حضرت مسیح موعود یہیں بیٹھ کر مہمانوں سے ملتے تھے۔یا اس کے دروازے پر میدان میں چار پائیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔اس کے بعد بھی دو تین سال تک وہی مہمان خانہ رہا۔اس کے بعد شہر کی فصیل جب فروخت ہوئی تو اُس کو صاف کر کے اس پر مکانات بنے کا سلسلہ جاری ہوا اور وہ جگہ بنائی گئی جہاں حضرت خلیفہ اول کا مطب اور موٹر خانہ ہے اور اس کے بعد وہ مکان بنایا گیا جہاں اب مہمان خانہ ہے۔پہلے اس میں حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ رہا کرتے تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے دوسری طرف مکان بنا لئے تو یہ مکان مہمانوں کے استعمال میں آنے لگا۔اس مہمان خانہ میں بھی میں مقیم ہوتا رہا۔پھر جب