ذکر حبیب — Page 4
4 صاحب سوئے۔نمازوں کے وقت حضرت صاحب مسجد مبارک میں جس کو عموماً چھوٹی مسجد کہا جاتا ہے تشریف لائے۔آپ کی ریش مبارک مہندی سے رنگی ہوئی تھی۔چہرہ بھی سُرخ اور چمکیلا۔سر پر سفید بھاری عمامہ ، ہاتھ میں عصا ء تھا۔دوسری صبح حضرت صاحب زنانہ سے باہر آئے۔پہلی سیر باہر آ کر فرمایا کہ سیر کو چلیں۔سید فضل شاہ صاحب (مرحوم ) حافظ حامد علی صاحب ( مرحوم ) اور عاجز راقم ہمراہ ہوئے۔کھیتوں میں سے اور بیرونی راستوں میں سے سیر کرتے ہوئے گاؤں کے شرقی جانب چلے گئے۔اس پہلی سیر کے دوران میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ گنا ہوں میں گرفتاری سے بچنے کا کیا علاج ہے۔گنا ہوں سے بچنے کا علاج فرمایا : - موت کو یا درکھنا۔جب آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اُس نے آخر ایک دن مر جانا ہے تو اس میں طول امل پیدا ہوتا ہے۔لمبی لمبی اُمیدیں کرتا ہے کہ میں یہ کرلوں گا اور وہ کرلوں گا اور گنا ہوں میں دلیری اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔مغرب سے طلوع آفتاب سید فضل شاہ صاحب مرحوم نے سوال کیا کہ یہ جو لکھا ہے کہ مسیح موعود اُس وقت آئے گا۔جبکہ سُورج مغرب سے نکلے گا۔اس کا کیا مطلب ہے۔فرمایا یہ تو ایک طبعی طریق ہے، کہ سُورج مشرق سے نکلتا ہے۔مغرب میں غروب ہوتا ہے۔اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔مراد اس سے یہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ اس زمانہ میں دین اسلام کو قبول کرنے لگ جائیں گے۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ اور پول میں چند ایک انگریز مسلمان ہو گئے ہیں۔جو کچھ باتیں اُس سفر میں ہوئیں ، اُن میں سے یہی دو باتیں مجھے یاد ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے حضرت صاحب کی صداقت کو قبول کرنے اور آپ کی بیعت کر لینے کی طرف کشش کی۔سوائے اس کے کہ آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا جس پر یہ گمان نہ ہوسکتا تھا کہ وہ چھوٹا ہو۔ا جب عاجز رائم نے امریکہ میں اشاعت اسلام کے واسطے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا تھا۔تو اسی حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رسالہ کا نام مسلم سن رائیز یعنی طلوع شمس الاسلام رکھا تھا۔اور اس کے سر ورق پر امریکہ کا نقشہ بنا کر اس پر سورج چڑھتا ہوا دکھایا تھا۔صادق