ذکر حبیب

by Other Authors

Page 3 of 381

ذکر حبیب — Page 3

3 ان دنوں علیل ہے۔اس واسطے میں توجہ نہیں کر سکتا۔بشرط یاددہانی میں پھر آپ کو مفصل جواب لکھوں گا۔میں نے سوچا کہ جیسا کہ حضرت مولینا صاحب نے کہا ہے۔تعبیر تو صاف تھی۔اور مرزا صاحب چاہتے تو اپنے پر چسپاں کر لیتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اس سے مجھے حضرت کے متعلق اور بھی حسن ظن پیدا ہوا۔اُس وقت حضرت مسیح موعود بیعت کا اشتہار دے چکے تھے اور سلسلہ بیعت جاری ہو چکا تھا۔پہلا سفر قادیان ۱۸۹۰ء میں یہ عاجز امتحان انٹرنس پاس کر کے جموں گیا۔اور وہاں مدرسہ میں ملازم ہو گیا۔ایک اور مدرس جو میرے ہم نام تھے ( مولوی فاضل محمد صادق صاحب مرحوم ) میرے ساتھ اکٹھے رہتے تھے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود کی کتاب فتح اسلام جموں میں پہنچی (غالبا وہ پروف کے اوراق تھے جو قبل اشاعت حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھیج دیئے گئے تھے ) اس کتاب میں حضرت صاحب نے پہلی دفعہ بالوضاحت عیسی ناصری کی وفات اور اپنے دعویٰ مسیحیت کا ذکر کیا۔وہ کتاب میں نے اور مولوی محمد صادق صاحب نے مل کر پڑھی۔اور میں نے اُس پر چند سوالات لکھ کر حضرت مسیح موعود کو بھیجے۔جن کے جواب کے متعلق حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے جو اُن دنوں جموں تھے مجھے زبانی فرمایا کہ عنقریب ایک کتاب شائع ہو گی۔اس میں ان سب سوالوں کے جواب آجائیں گے۔اس کے بعد سکول میں کسی رخصت کی تقریب پر میں قادیان چلا آیا - غالبا دسمبر ۱۸۹۰ء تھا۔سردی کا موسم تھا۔بٹالہ سے میں اکیلا ہی یکہ میں سوار ہو کر آیا اور بارہ آنہ کرایہ دیا۔حضرت مولینا صاحب مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام ایک سفارشی خط دیا تھا۔حضرت کے مکان پر پہنچ کر وہ خط میں نے اُسی وقت اندر بھیجا۔حضرت صاحب فوراً باہر تشریف لائے۔فرمایا ! مولوی صاحب نے اپنے خط میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔مجھ سے پوچھا کیا آپ کھانا کھا چکے ہیں۔تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے۔اس وقت مجھ سے پہلے صرف ایک اور مہمان تھا ( سید فضل شاہ صاحب مرحوم ) اور حافظ شیخ حامد علی صاحب مہمانوں کی خدمت کرتے تھے اور گول کمرہ مہمان خانہ تھا۔اس کے آگے جو تین دیواری بنی ہوئی ہے، اُس وقت نہ تھی۔رات کے وقت اُس گول کمرہ میں عاجز را قم اور سید فضل شاہ