ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 352
352 اسے پہلے بیان کر چکا ہوں۔بہت ہی اعلیٰ پائے کا ایک شعری قلبی مضمون بیان ہوا ہے۔عرض کرتے ہیں کہ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔جو کچھ نعمتیں تو نے ہمیں بخشی ہیں ان میں سے کچھ بھی ایسی نہیں جو ہم نے خود بنائی ہوں، سب تیری عطا ہے۔اگر تیرے حضور واپس کر دیں تو اس کے نتیجے میں ہم تو تجھے کچھ دینے والے نہیں بنیں گے۔پس شکریہ ادا کرنا زبان سے اور بات ہے اور دل سے شکریہ ادا کرنا اور بات ہے۔جب دل سے شکریہ ادا ہو تو انسان کے اندر طلب پیدا ہو جاتی ہے کہ میں شکریے کا حق ادا کرنے کی کوشش کروں۔آپ دیکھیں کہ اللہ ہمیں جو توفیق بخشتا ہے ہم اس کے حضور چندے دیتے ہیں اور اس معاملے میں ساری دنیا میں سب سے نمایاں جماعت احمدیہ ہے۔ساری دنیا کے پردے پر تلاش کر کے دیکھ لیجئے آپ کو احمدیہ جماعت سے بڑھ کر خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والی کوئی جماعت نہیں ملے گی۔بڑے چھوٹے جوان سارے توفیق کے مطابق کچھ نہ کچھ دیتے ہیں لیکن بعض لوگ جو کچھ زیادہ دینے کی توفیق پاتے ہیں ان کے دماغ میں بعض دفعہ یہ کیڑا پڑ جاتا ہے کہ اچھا جماعت تو ہم پر منحصر ہے۔ہماری قربانیاں ہیں جن کے نتیجے میں جماعت چل رہی ہے اور بعض ایسے لوگوں کا انجام پھر برا ہوتا ہے، خدا انہیں باہر نکال پھینکتا ہے لیکن وہ لوگ جو عجز کے ساتھ قربانی کرتے ہیں جن کے دل میں شکریہ پیدا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ سب کچھ خدا کی عطاء ہے۔ہم نے جو کچھ واپس کیا اس کا بہت تھوڑا واپس کیا جو اس نے ہمیں دیا تھا۔اس لئے ہمارا احسان نہیں ہے۔خدا کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے ہمیں دیا اور یہ بھی احسان ہے کہ اس میں سے کچھ اس کے حضور پیش کیا۔پس انبیاء اس لئے شکریے کا حق ادا کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔وہ جانتے ہیں، وہ عارف باللہ ہوتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ خدا کے احسان بہت زیادہ ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ خالی زبان سے الحمد للہ کہنا کافی نہیں ہے۔بدن کو بھی شکریے کے ساتھ خدا کے حضور جھکنا ہو گا۔جذبات کو بھی جھکنا ہو گا۔خدا نے جو کچھ ہمیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ ہمیں اس کا شکریہ ادا کرنا ہو گا۔اب اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں ، ہر نعمت