ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 351
351 رب اور عربی آن اشكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَان أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ واد خلني برحمتك في عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ - اس ہے کہ اے میرے رب! رت اور عراق مجھے تو توفیق عطا فرما۔مجھے اس بات کی طاقت بخش آن اشكر نعمتك کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں۔یہ سادہ کی دعا ہے۔اس کا پہلا حصہ یہ ہے کہ مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہم تو ہر چھوٹی سی نعمت ہو یا بڑی نعمت ہو شکریہ کہہ کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا تو پھر حضرت سلیمان کو کیا ضرورت تھی کہ خدا سے شکریے کا طریقہ بھی مانگیں اور توفیق بھی مانگیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ شکریہ ادا کرنا صرف زبان سے شکریہ ادا کرنا نہیں ہوا کرتا۔کوئی شخص آپ پر اتنا بڑا احسان کرے۔آپ کا کام کرنے کے لئے اتنی مشکل اٹھائے۔کوئی شخص ڈوب رہا ہے اس کی جان بچانے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالے اور دریا میں چھلانگ دے اور بڑے مشکل سے ہاتھ پاؤں مار کے خود ڈوبتے ابھرتے اس شخص کی جان بچالے اور وہ باہر آکر کہہ دے۔شکریہ ! تو کیا شکریہ ادا ہو جائے گا؟ یہ سوال ہے۔اس لئے یہ دعا ہمیں سکھا رہی ہے کہ تم یہ ہو قوفی نہ کیا کرو کہ زبانی خدا کو کہہ دیا اچھا شکریہ۔بہت آپ نے احسان فرمایا۔بس کافی ہو گئی۔شکریہ اگر ادا کرنا ہے تو خدا سے اس کی توفیق مانگو۔توفیق اس چیز کی مانگی جاتی ہے جو مشکل ہو۔جس کے لئے جان کو جو کھوں میں ڈالنا پڑتا ہو۔پس انبیاء چونکہ شکریے کا حق ادا کرنا چاہتے تھے ، ہر چند کہ اللہ کے شکریہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا اور غالب والی بات ہی درست ہے کہ جان دی دی ہوئی اس کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کہ ہم خدا کو زیادہ سے زیادہ جو چیز پیش کر سکتے ہیں اپنی جان دے سکتے ہیں ناں۔اس سے بڑھ کر ہم کیا کر سکتے ہیں لیکن جان بھی خدا کو دے دیں تو وہ بھی تو اسی نے دی تھی۔اس کی عطاء کو اس کو واپس کریں گے ، نئی چیز کیا اپنے پاس سے گھر سے لائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ مصرعہ جو مجھے بہت پیارا لگتا ہے باربار میں