ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 69
69 اور جس طرح چاہو کھاؤ اور حکم دیتا ہے کہ شجرہ ممنوعہ کی طرف نہ جاؤ۔وہ خبیث شجر ہے تو یہاں انسان روزانہ دو ٹوک فیصلے کرنے کا اہل ہو جاتا ہے یہاں اس کی سوچوں اور فکروں کا سوال نہیں رہتا بلکہ کھلم کھلا خدا کی عبودیت یا عدم عبودیت کے مراحل اس کے سامنے آتے ہیں اور ہر مرحلے پر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے عبودیت کرنی ہے یا عبودیت سے منہ پھیرتا ہے۔پس ان معنوں میں جب وہ ان شرائط کو پورا کرتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پورا کرتا ہے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی حد تک پورا کرتا ہے تو وہی چار صفات کے جلوے دوبارہ ایک کے بعد دوسرے ہمارے سامنے رقص کرتے ہوئے آجاتے ہیں، ایک حسین نظارے کی صورت میں آجاتے ہیں۔ربوبیت کے معاملے میں ہم نے کس حد تک خدا کے احکامات کی پیروی کی اور اس کی متاہی سے بچے۔رحمانیت کے پہلو سے ہم نے خدا تعالٰی کے کس کس حکم کی پیروی کی اور کس کس حکم کا انکار کیا اور رحیمیت کے پہلو سے ہم نے کس حد تک خدا تعالٰی کے احکامات کی پیروی کی یا ان کا انکار کیا اور اسی طرح مالکیت کے پہلو سے ہم کس حد تک واقعہ " خدا کے بچے بندے ثابت ہوئے۔یہ عبودیت کے مضمون کو مکمل کر دیتا ہے اور اسی مضمون میں یہ نماز بھی شامل ہے جس میں ڈوب کر آپ خدا سے یہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔خدا نے تعلق کا یہ ذریعہ بیان فرمایا اور سب سے زیادہ اس کو اہمیت دی تو اس ساری دنیا کی سیر کے بعد جب ایک نمازی واپس اپنے حال میں لوٹتا ہے تو یہ بھی پھر پہچانتا ہے اور دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ میں کس حد تک نماز کے تقاضے پورے کر رہا ہوں اور کس حد تک عدل کے ساتھ نماز کے تقاضے پورے کر رہا ہوں اور کس حد تک عدل سے بالا اور اونچا ہو کر خدا کے حضور ایسی عبادت کر رہا ہوں کہ اگر نہ بھی کروں تو مجھے پر حرف نہیں لیکن بہت بڑھ کر سلوک کرتا ہوں اور جب یہ مضمون شروع ہوتا ہے تو وہاں احسان کا مضمون داخل ہو جاتا ہے یعنی نماز عدل سے احسان میں تبدیل ہونے لگتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر حسین ہونے لگ جاتی ہے۔اب آپ رات نستعین میں داخل ہوتے ہیں۔اب دیکھیں کہ ہر شخص کا اياكَ نَسْتَعِير ہر دوسرے شخص سے کتنا مختلف ہو چکا ہے۔بظاہر ایک ہی آواز ہے کہ اے خدا! ہم تیری مدد چاہتے ہیں اور