ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 68

68 عاجزی اور انکساری سے کرتا ہے اور رب اور رحمان اور رحیم بکر خدا کے بندوں سے اپنے تعلقات قائم کرتا ہے۔بڑا ہو کر چھوٹا بنتا ہے، اس کی ملوکیت بھی قیامت کے دن کے بعد خدا تعالٰی کی رحمت کے جلوے کی صورت میں اسے واپس کی جائے گی اور بہت بڑھا چڑھا کر واپس کی جائے گی۔پس اس دنیا میں ہم کس حد تک مالک ہوں گے اور کس حد تک ملک ہونگے اس کا تعلق اس دنیا میں خدا کے مالک اور ملک ہونے سے ہے اور اس بات سے ہے کہ ہم نے اس مالک اور ملک سے کس حد تک تعلق جوڑلیا ہے۔پس تعبد کا ایک یہ مضمون ہے۔ایک یہ مفہوم ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تو جانتا ہے اور تو دیکھ رہا ہے کہ جو چیز میری ہمیں پسند آرہی ہے ہم ویسا بنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس لئے ہمارے اخلاص میں تو کوئی شک نہیں رہا۔اگر ہم جھوٹے ہوتے تو منہ کی تعریف کرتے اور عملاً " ہم اور رخ اختیار کرتے، کسی اور سمت میں روانہ ہو جاتے مگر جس کو ہم اچھا سمجھ رہے ہیں اس کے قدم بقدم اس کے پیچھے چلے آرہے ہیں۔پس إياكَ نَعْبُدُ اے خدا ہم پورے خلوص کے ساتھ اور صمیم قلب کے ساتھ اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ اور اپنے اعمال کی تصدیق کے ساتھ بار بار یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔خدا تعالی کے احکام اور صفات کی پیروی کی ضرورت دوسرے معنوں میں ایات تفت میں خدا تعالٰی کے احکام کی پیروی ہے۔ایک اس کی صفات کی پیروی ہے اس طرح جو دنیا میں ہر جگہ جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں اور اس کے لئے کسی مذہبی احکام کی ضرورت نہیں۔انسان کا ربوبیت کا تصور رحمانیت کا تصور رحیمیت کا تصور اور مالکیت کا تصور خدا کے تعلق میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے اور اپنے اپنے تصور کے مطابق جس حد تک انسان عبدیت کی راہیں اختیار کرتا ہے وہ انال تغیر کہنے کا حق رکھتا ہے لیکن جب خدا تعالی کی طرف سے شریعت نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ صرف اپنی صفات کے جلووں سے ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اوامر اور نواہی کے جلووں سے ظاہر ہوتا ہے۔احکام دیتا ہے اور بعض چیزوں سے منع کرتا ہے۔کہیں شجرہ طیبہ ہے اور کہیں شجرہ خبیثہ ہے۔فرماتا ہے کہ شجرہ طیبہ سے جتنے پھل چاہو کھاؤ