ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 495

495 تجارب ہوتے رہتے ہیں۔بعض علاقے ہیں جہاں جھوٹی تعریفیں کرنے کی عادتیں ہیں وہ جب آپ سے ملتے ہیں تو ہمیشہ آپ کی بڑی تعریفیں کرتے ہیں۔بعض دفعہ ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ مبالغے کی حد کر دیتے ہیں لیکن اگر آپ خود جھوٹے نہیں ہیں تو آپ کی طبیعت میں بجائے اس سے کہ ان کے لئے محبت پیدا ہو تنفر پیدا ہو تا رہتا ہے۔اگر آپ جھوٹے ہیں تو جھوٹی تعریفوں سے ہمیشہ خوش ہو جایا کرتے ہیں لیکن آپ کا صدق آپ کو بتائے گا کہ کسی حد تک آپ بچے ہیں کیونکہ سچا انسان کبھی جھوٹی تعریف سے راضی نہیں ہو سکتا اور سنتا ہی نہیں۔سنی ان سنی کر دیتا ہے بلکہ نفرت کرتا ہے اور گھبراتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ جلد یہ ملاقات ختم ہو۔پس ایسی حمد جو دل سے نہ اٹھے اور جو اپنے اندر گہری سچائی نہ رکھتی ہو وہ خدا نہیں سنتا لیکن جب حمد کے نتیجہ میں اطاعت شروع ہو گئی جب انسان نے قربانیاں پیش کرنی شروع کر دیں جب اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیں تو حمد سننے کے لائق ہے اور اسی مضمون کو قرآن کریم نے دوسری جگہ یوں بیان فرمایا کہ کلمہ طیبہ کو پاک کلمے کو نیک اعمال بلند کرتے ہیں۔جب تک نیک اعمال اچھے کلمات کے ساتھ شامل نہ ہوں اس وقت تک ان کو رفعت پرواز عطا نہیں کی جاتی اور وہ اوپر پہنچتے ہی نہیں۔پس وہ ایسی آوازیں ہیں جو عرش سے درے درے گر جاتی ہیں اور اپنے مقصود اور مقام تک نہیں پہنچتیں ہیں رکوع نے ہمیں یہ بھی سمجھا دیا کہ اگر تم ایسی حمد چاہتے ہو جسے خدا سنے تو پھر اطاعت کرو اور خدا کے حضور جھک جاؤ۔ایسی صورت میں تمہیں یہ آواز سنائی دے گی کہ اللہ اس حمد کو قبول فرماتا ہے جو بچی حمد ہے۔سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَهُ اب خدا یہ کہتا ہے کہ ہاں میں اس حمد کو سنتا ہوں اس حمد کرنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جو بچے دل سے میری حمد کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں جب آپ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہتے ہیں تو یہ تشکر کی حمد ہے۔یہ شکرانے کی حمد ہے۔پہلی حمد جو سورۂ فاتحہ کی تھی اس کے قبول ہونے کی خوشخبری رکوع کے بعد آپ کو عطا کی گئی اور اس خوشخبری کے نتیجہ میں اظہار تشکر کے طور پر آپ پھر جھک جاتے ہیں اور کہتے ہیں : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حمدا كثير أطيبا مبار کافیه ایسی حمد جو نہ ختم ہونے والی ہے۔بہت بڑی وسیع ہے۔